جمعرات‬‮ ، 23 جولائی‬‮ 2026 

بلوچستان میں گرنے والے شہاب ثاقب مبینہ طور پر افغانستان کے راستے بیرون ملک سمگل، اب یہ شہاب ثاقب کس ملک میں ہیں اور کس یونیورسٹی میں تحقیق جاری ہے؟اہم انکشافات

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کم آبادی اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم آلودگی کے باعث بلوچستان کا شمار فلکیاتی مشاہدات کے ليے بہترین مقامات میں ہوتا ہے۔ ژوب کی تحصیل قمر الدین کاریز سے تعلق رکھنے والے سردار نور محمد کے مطابق رواں سال نو جنوری کی شام کوئٹہ سے تقريباً 315 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ژوب ڈویژن کی یونین کونسل حسن زئی ميں چند مزدور گھروں کو لوٹ رہے تھے کہ ان سے کچھ فاصلے پر شہابِ ثاقب آ گرے۔

ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن تقریباً 18.9 کلوگرام تھا۔ اس کے گرد و نواح میں گرنے والے چھوٹے پتھروں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ مزدوروں نے انہيں جمع کر لیا۔ کچھ دن بعد کوئٹہ سے کچھ افراد نے مبينہ طور پر اس علاقے کا دورہ کیا اور بڑے پتھر سمیت تمام پتھر یہ کہہ کر لے گئے کہ انہیں اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے میں تجزیے کے ليے بھیجا جائے گا۔ مگر انہیں متصل افغانی سرحد کے راستے تقریباً چار لاکھ روپوں میں سمگل کر دیا گیا۔ اس پيش رفت سے ذرائع ابلاغ لا علم رہا۔ چونکہ اس علاقے کے لوگ زیادہ خواندہ نہیں ہیں لہذا وہ اس پتھر کی اہمیت سے واقف ہی نہیں تھے۔یہ واقعہ اس وقت انٹرنیشنل میڈیا میں آیا جب امریکا کی ايريزونا اسٹیٹ یونیورسٹی نے اس پتھر پر تحقیق کر کے اس سے متعلق اہم معلومات جاری کیں، جہاں اسے ‘ژوب میٹیورائٹ‘ کا نام دیا گیا۔پاکستان میں سائنسی لکھاری شاہ زیب صدیقی کے مطابق انہیں انٹرنیشنل میڈیا ہی کے ذریعے اس شہابِ ثاقب کے بارے میں معلوم ہوا، تو انہیں شدید حیرت ہوئی کہ اتنا وزنی پتھر گرا اور میڈیا اس سے بے خبر رہا۔ میں نے اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پتھر کی افغانستان کے راستے اسمگلنگ کے بعد اسے مائیکل فارمر نامی ایک بین الاقوامی جیمز ایکسپرٹ نے خرید کر ٹکسن جیمز اینڈ منرل شو میں پیش کیا، جہاں سے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی امریکا نے اسے تحقیقی مقاصد کے ليے خریدا اور تب ہی یہ شہاب ثاقب دنیا کی نظروں میں آ سکا۔

نوجوان سائنسدان شہیر نیازی، جنہیں سن 2019 میں فوربس میگزین نے دنیا بھر کے انڈر 30 متاثر کن نوجوانوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، ان شہاب ثاقب کی پاکستان واپسی کے ليے مہم چلا رہے ہیں۔ شہیر کے مطابق انہوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ژوب میٹیورائٹ کی پاکستان سے غیر قانو نی اسمگلنگ کو ہائی لائٹ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی توجہ بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی طرف مبذو ل کرائی جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ بلوچستان کی حکومت سے اس پر معلومات لیں گے۔لیکن ابھی تک کوئی عملی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…