بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کم عمری میں ہی پاکستان کی پہچان بننے والی ارفع کریم کو ہم سے بچھڑے سات برس بیت گئے

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کم عمری میں ہی پاکستان کی پہچان بننے والی کم عمرترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم رندھاوا کی آج ساتویں برسی منائی جارہی ہے، انہوں نے نو برس کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین سافٹ سرٹیفائیڈ کا اعزازحاصل کیا تھا۔ ارفع کریم 2 فروری 1995 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں اورصرف 9 برس کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کا اعزازحاصل کیا۔

ارفع نے اپنی لازوال کاوش کی بنا پر فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ اورصدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت دیگراعزازات بھی حاصل کیے تھے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں مائیکرو سافٹ کے خالق بل گیٹس نے ارفع کریم سے خصوصی ملاقات کی اور انھیں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن کی سند عطا کی تھی ۔مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ سن 2006 کی تکنیکی ڈیولپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو مد عو کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ارفع کریم نے دبئی کے فلائنگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی حاصل کیا ۔ ارفع کو 22 دسمبر 2011 کو مرگی کا دورہ پڑنے پر لاہور کے اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ روز کومے میں رہنے کے بعد 14جنوری 2012 کو خالق حقیقی سے جا ملیں لیکن مائیکرو سافٹ کی تاریخ میں ناقابل فراموش نقوش چھوڑ گئیں۔ جنوری 2012ء میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ارفع کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری دی‘ جبکہ پنجاب حکومت نے ان کے نام سے لاہور میں ارفع کریم آئی ٹی ٹاور بھی تعمیر کیا ہے۔ شوخ چنچل اور اپنی زندگی کھل کر جینے والی ارفع آج ہم میں نہیں ہے مگر ارفع کی طرح دیگر کئی کم عمر مائیکروسافٹ پروفیشنلز اس کا مشن جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہیں، ارفع کریم رندھاوا ایک پھول تھا جو مرجھا گیا مگر اس کی خوشبو آج بھی دل و دماغ پر مہک رہی ہے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…