بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مشتری کے برفیلے چاند سے ’پانی کے فوارے نکلتے ہیں‘

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سائنسدانوں کو ایسے مزید شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیارہ مشتری کا برفیلا چاند یوروپا خلا میں پانی کے فوارے چھوڑتا رہتا ہے۔ سائنس دانوں نے 2013 میں پہلی بار ہبل خلائی دوربین استعمال کرتے ہوئے اس بارے میں بتایا تھا لیکن اب اسی امر کا ایک بار پھر مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یہ دریافت اس لیے

بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یوروپا پر کافی مقدار میں پانی مائع حالت میں موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ وہاں پر کسی قسم کی زندگی پائی جاتی ہو۔ ان پانی کے فواروں کے آس پاس کسی خلائی گاڑی کو اڑا کر وہاں زندگي کے امکان کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس پانی کے نمونوں کی جانچ پڑتال سے مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں، یا پھر مستقبل کے کسی خلائی مشن میں اس پانی کو تفصیلی معائنے کے لیے زمین پر بھی لایا جا سکتا ہے۔ یوروپا کی سطح منجمد ہے اور کئی کلومیٹر گہری برف کی تہہ کے نیچے پانی کا سمندر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تہہ کی کھدائی کر کے نیچے سے پانی نکالنا خاصا مشکل ہے، لیکن سطح سے اچھلتے فواروں سے پانی کے نمونے حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس دوربین نے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ مشتری کی سطح سے منعکس ہونے والی روشنی کسی طریقے سے یوروپا میں جذب تو نہیں ہو رہی۔ ہبل نے دیکھا کہ بعض اوقات یوروپا کے کونوں سے’تاریک انگلیاں‘ باہر نکل جاتی ہیں۔ ماہرِ فلکیات ولیم سپارکس کہتے ہیں کہ اس کی ایک ہی وضاحت ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ یوروپا کی سطح سے پانی کے بخارات نکل کر فضا میں بلند ہو رہے ہیں۔ ’ہم محتاط ہیں کیوں کہ ہم ہبل کی مشکل ویو لینتھ کی مدد سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم ان بخارات کی موجودگی کا دعویٰ نہیں کر رہے، صرف اتنا کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمی موجود ہو سکتی ہے۔‘ تاہم اسی عشرے

کی ابتدا میں ہبل نے یوروپا کی سطح پر اسی جگہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مشاہدہ کیا تھا، جن سے مل کر پانی بنتا ہے۔ ہبل کی سینیئر سائنس دان جینیفر وائزمین کہتی ہیں کہ یہ بہت دلچسپ دریافت ہے۔ ’اس سے پہلے ہبل نے سپیکٹروسکوپی کی مدد سے آکسیجن اور

ہائیڈروجن کی موجودگی دریافت کی تھی۔ اب سپارکس اور ان کی ٹیم نے بصری طور پر فوارے اٹھتے دیکھے ہیں۔ اس لیے دو مختلف پہلو ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ اور ان سے بظاہر یوروپا کی سطح پر پانی کے فواروں کی موجودگی کی شہادت ملتی ہے۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…