جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

دماغ میں ایسا کیا ہوتاہے کہ جمائی آتی ہے؟

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ممکن ہے کہ آپ اسے پڑھتے وقت ہی جمائی لے رہے ہوں کیونکہ یہ بھی ایک متعدی عمل ہے۔ محققین نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ آخر دماغ میں ایسا کیا ہوتا کہ جس سے جمائی آجاتی ہے۔نوٹنگھم یونیورسٹی کی ایک ٹیم اس پر کام کر رہی تھی جسے پتہ چلا ہے کہ دماغ کے جس حصے میں ؎

اعصابی افعال کو منظم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے وہیں سے جمائی کا عمل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ متعدی جمائی کا راز سمجھ میں آجانے سے اس طرح کی دیگر خرابیوں کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ متعدی جمائی ایکوفینومینا یا گونج کے عمل جیسا ہی ہے جس میں انسان خود بخود ہی کسی دوسرے کی آواز یا عمل کی نقل کرنے لگتا ہے۔ ذہنی بیماریوں جیسے مرگی یا پھر آٹزم کے مریضوں میں بھی ایکوفینومینا ہی پایا گيا ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ ایکوفینومینا جیسی صورت حال میں آخر دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے، سائنسدانوں نے 36 رضاکاروں کا اس وقت معائنہ کیا جب وہ دوسروں کو جمائی لیتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اس تحقیق کے نتائج ‘کرنٹ بائیولوجی’ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ تحقیق کے دوران کچھ رضاکاروں سے کہا گيا تھا کہ اگر انھیں جمائی آئے تو وہ جمائی لیں جبکہ کچھ سے کہا گیا کہ اگر انھیں جمائی آئے تو وہ اس پر کنٹرول کریں اور اس سے گریز کریں۔ اس کے مطابق کسی شخص میں جمائی لینے کی خواہش میں کمی اسی مناسبت سے تھی کہ اس کے دماغ کا وہ حصہ کس طرح سے کام کرہا ہے، ایکسائیبیلٹی یعنی تحریک پذیری کا عمل کیسے ہوتا ہے۔ ایکسٹرنل، ‘ٹرانسکرینیئل میگنیٹک سٹمیولیشن’ (ٹی ایم ایس‎) کے استعمال سے دماغ کے اس حصے میں ایکسائیبیلٹی میں اضافہ ممکن ہے اور اس طرح لوگ متعدی جمائی کے اپنے

فطری میلان میں کمی کر سکتے ہیں۔ نیورولوجی کے ماہر پروفیسر جیورجیئن جیکسن، جنھوں نے اس پر کام کیا ہے، کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہونے والی دریافت کا استعمال بہت سی دیگر خامیوں میں کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر سٹیفین جیکسن نے بھی اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ‘اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ دماغ کے اس حصے میں ہونے والی تحریک پذیری کو، جو کئی قدرتی خرابیوں کی وبجہ بنتی ہے، کیسے بدلا جاسکتا ہے تو ممکن ہے کہ ہم اسے ہونے سے روک سکیں۔’ نیویارک سٹیٹ یونیورسٹی میں نفسیات کے ماہر ڈاکٹر اینڈریو گیلپ، جنھوں نے دوسرے شخص کی حرکات و سکنات اور جمائی کے درمیان کے رابطے پر تحقیق کی تھی کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں ابھی بھی نہیں پتہ ہے کہ آخر ہم جمائی کیوں لیتے ہیں۔ البتہ بہت سی تحقیقات سے لوگوں کی حرکات و سکنات اور متعدی جمائی کے درمیان رابطے کا پتہ چلا ہے۔ لیکن اس بارے میں اب تک ہونے والی تحقیق میں تسلسل کی بھی کمی ہے۔’

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…