ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ہماراذہن یادوں کو کیسے محفوظ رکھتا ہے ؟

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک )کراس حقیقت سے تو ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ ہمارا ذہن تمام تر یادوں کو محفوظ رکھتا ہے۔پس جب ہم کسی خاص چیز کے متعلق سوچتے ہیںتو اس چیز سے جڑی تمام باتیںکسی محرک فلم کی مانند دماغ میں گردش کرنے لگتی ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دماغ ان تمام یادوں کو کس طرح محفوظ رکھتا ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی نیوروسائنٹسٹ پریا راجسے تپتھی اس سوال کا جواب تلاش میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مس تپتھی نے پہلی باردماغ کی یادوں کو کنٹرول کرنے والی مشینری پر تحقیقات کیں۔انکی سب ذیادہ چونکا دینے والی اور متنازعہ قرار دی گئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پائیدار یادیں ہمیشہ ڈی این اے پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔راجسے تپتھی نے اپنی تحقیق کے مکمل ہونے کے بعد ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ سائنسدا ن بننا نہیں چاہتی تھیں اگرچہ انھیں سائنسدانی والد کی طرف سے وراثت میں ملی تھی۔واضح رہے راجسے تپتھی کے والد کمپیوٹر کے سائنسدان ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پری میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کورنیل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔تین سال میں گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد ذہنی مریضوں کا علاج کرتی رہی۔بعد ازاں ایک سال کیلئے رضا کارانہ طور پر بھارت میں کام کرنے کیلئے چلی گئیں۔اسی سال کے دوران انھوں نے بنگلور کے نیشنل سینٹر میں عصبی اور حیاتیاتی سائنس پر تحقیقات کیں۔تحقیقات کے دوران وہ پتہ لگانے میں پہلی بارکامیاب ہوئیں کہ مائیکرو آر این اے کے چھوٹے مالیکیول جو پروٹین کی پیداوار کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ دماغ میںیادوں کو قابو میں بھی رکھ سکتے ہیں۔بعد ازاں انھوں نے کولمبیایونیورسٹی سے ایم ڈی اور پی ایچ ڈی کرنے کے دوران بھی اپنی توجہ اسی نقطے پر مرکوز رکھی۔رپورٹ کے مطابق2009ئ میں انھو نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے سلگ کے عصبی خلیات میں پایا جانے والا مائیکروآر این اے دریافت کر لیاجو دماغ میں یادوں کو 24گھنٹے تک ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے۔علاوہ ازیں راجسے تپتھی اور انکے ساتھی تحقیق کے دوران سلگ کے عصبی خلیات میں پایا جانے والاپی آئی آر این اے بھی دریافت کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پی آئی آر این اے، مائیکرو آر این کے مقابلے میں تھوڑا بڑا ہوتا ہے اور پروٹین کی پیداوار کو روکتا ہے جو یاداشت کو مضبوط کرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔راجسے تپتھی کامزید کہنا ہے کہ انھوں نے میڈیکل کے شعبے کو خیر باد کہہ دیا ہے تاکہ اپنی تمام تر توجہ یاداشت سے متعلق تحقیقات پر مرکوز رکھ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…