جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

ماہرین کے مطابق پودوں کے اندر پچھلی خشک سالی کے آثار محفوظ رہتے ہیں

datetime 28  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) ماہرین کے مطابق پودوں کے اندر پچھلی خشک سالی کے آثار محفوظ رہتے ہیں جسے معلوم کرکے فصلوں اور پودوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
امریکی یونیورسٹی کے ماہر جینیات دان کا کہنا ہےکہ مختلف پودے خشک سالی اور پانی کی کمی پر مختلف برتاو¿ کرتے ہیں جو ان کے جین اور دیگر حصوں میں محفوظ ہوجاتا ہے ان سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ بعض پودے شدید خشک سالی کو کیوں جھیل جاتے ہیں اور کچھ پودے کیسے ختم ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے چارکے کی گھاس ”الفلفا“ پر تحقیق کرکے بتایا کہ پانی کی کمی سے یہ سوکھ جاتی ہے لیکن پانی ملنے پر دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے کیونکہ وہ پانی کی کمی کو یاد رکھتے ہوئے اسے جھیل جاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق پودوں کے دماغ نہیں ہوتے لیکن ان کے خلیات مشکل لمحات کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے اگلے مشکل وقت میں خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس عمل کو سمجھتے ہوئے دیگر پودوں، فصلوں اور اجناس کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے لیکن ایسے پودوں کا مکمل جینیاتی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موسم اپنی شدت ظاہر کررہا ہے اور اس سے زراعت پر شدید نقصان پہنچ رہا ہے اس لیے اگر فصلوں اور اجناس کو موسمیاتی شدت سے محفوظ نہ رکھا گیا تو پوری دنیا میں خوراک کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…