لاہور (نیوز ڈیسک) آٹزم کی بیماری تاحال بچوں میں پیدائشی طور پر پائی جانے والی ایک لاعلاج نفسیاتی بیماری سمجھی جاتی ہے، عام طور پر بچوں کے تین سے چار برس کا ہونے پر اس بیماری کا انکشاف ہوتا ہے جب والدین بچے کی تربیت پر خاص توجہ دینا شروع کرتے ہیں تاہم اب ماہرین نے چھوٹے بچوں کے دماغی سکینز کے جائزے سے معلوم کیا ہے کہ آٹزم کا شکار بچوں کے دماغی طور پر سیکھنے کی صلاحیتوں کو اس عمر سے بہت پہلے جاننا ممکن ہے جس عمر میں ان کی بیماری کا علم ہوتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ماہرین ایک خاص طرح کا ٹیسٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس سے یہ علم بھی ہوسکے گا کہ اس مرض کی نوعیت کیا ہوگی اور کیا اس کی شدت کم ہونے کی صورت میں تھراپیز کی مدد سے اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جاسکے گا کہ نہیں۔
پیدائش کے ابتدائی چند ماہ میں بھی آٹزم کا سراغ لگانا ممکن ہوگیا، ماہرین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
ایرانی ریال خریدنے والوں کو مرکزی بینک نے خبردار کر دیا
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
ملک میں سونے کی قیمت میں دو دن میں بڑا اضافہ
-
سوزوکی نے پاکستان میں اپنی نئی گاڑی متعارف کرا دی
-
پی ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال پر ایڈوائزری جاری



















































