منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

فضاء میں ٹکراکرسنبھلنے والا ڈرون تیار

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سائنسدانوں نے پھڑپھڑاتے ہوئے پروں والا ایک ایسا ڈرون بنایا ہے جو ہوا میں کسی چیز سے ٹکرانے کے بعد پہلے اپنے پر موڑ لیتا ہے اور پھر دوبارہ پرواز شروع کر دیتا ہے۔پرندوں خصوصاً چمگادڑوں کے پروں کے ساخت کی نقل کرتے ہوئے محققین نے یہ مشین تیار کی ہے تاکہ ان کا یہ اڑتا ہوا روبوٹ رکاوٹوں کے بیچ سے سمٹ کر گزر جائے اور نقصان سے محفوظ رہے۔اس کے بارے میں تفصیلات بائیو انسپریشن اور بائیو میمیٹک نامی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔اس ڈرون کے پروں میں پرندوں کی طرح اپنے پروں کو جسم کے قریب سمیٹ لینے کی صلاحیت ڈالی گئی ہے۔اس کے لیے سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کاربن فائبر اور باریک پلاسٹک فلم سے ایک باریک لچکدار پر تیار کیا۔چمگادڑ کے پر کی ساخت کا یہ پر تہہ ہونے کے بعد دوبارہ کھلتا ہے اور اس عمل کے لیے روبوٹ کے کسی دوسرے حصے کو حرکت کرنے کے ضرورت نہیں ہوتی۔یہ پر ڈرون کے باقی حجم کے ساتھ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جوڑے گئے ہیں اور یہ جوڑ بھی جانوروں کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے لگایا گیا ہے۔ اس کی مدد سے پر باقی کے جسم کا پابند ہوئے بغیر آزادانہ طور پر بند اور کھل سکتا ہے۔اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر ڈیوڈ لینٹنک کا کہنا ہے کہ وہ ’حیران ہیں کہ اس نے اتنا بہترین کام کیا‘۔ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے اس روبوٹ کے پر کو ایک چھڑی کے ساتھ سختی سے ضرب لگائی اور اس نے بہت اچھے سے اس سخت اثر سے نمٹا۔‘’حتٰی کہ آپ اسے بیس بال کے بلے جتنی سخت چیز سے بھی ضرب لگائیں تو یہ اسی طرح اس سے بچ جائے گا۔‘محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس پھڑپھڑاتے پروں والے ڈرون کو مزید بہتر بنائیں گے۔فوج، تلاش اور ریسکیو کے کاموں میں ایسے چھوٹے اور پھڑپھڑاتے پروں والے ڈرونز کی کافی طلب ہے جو تیزی سے حرکت کریں اور صورتحال سے نکل کر آ سکیں۔ڈاکٹر ڈیوڈ لینٹنک کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم جنگلوں اور درختوں والے علاقوں سے پرندوں کی طرح بچ کر نکلنا چاہتے ہیں۔ تو ڈرونز کو زیادہ طاقت ور ہونے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…