اسلام آباد (نیوز ڈیسک) غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے پر پاکستان تحریک انصاف نے شدید ردعمل دیتے ہوئے شفاف تحقیقات، تمام حقائق منظرِ عام پر لانے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک فوجداری کیس نہیں بلکہ پاکستان کے نظامِ انصاف، ریاستی اداروں کی ساکھ اور عالمی سطح پر ملک کی نیک نامی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر غیر ملکی شہریوں کو پاکستان بلانے، مبینہ طور پر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے، بھتہ طلب کرنے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر مقدمے میں کسی بااثر سیاسی خاندان یا حکومتی شخصیات کے قریبی افراد کے نام سامنے آئے ہیں تو تحقیقات کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ اور اثرورسوخ سے پاک رکھا جائے۔ پارٹی کے مطابق قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور ہر فرد کو اپنے عمل کا جواب دینا چاہیے۔
اعلامیے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کیس کے مالی معاملات، کرپٹو ٹرانزیکشنز، بیرونِ ملک روابط، ممکنہ منی لانڈرنگ اور ڈیجیٹل شواہد کا جامع فرانزک آڈٹ کریں تاکہ تمام حقائق واضح ہو سکیں۔
تحریک انصاف نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا پاکستان میں طاقتور افراد اور عام شہریوں کے لیے انصاف کے الگ الگ معیار موجود ہیں۔ پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تحقیقات کے عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرے اور متعلقہ اداروں کو آزادانہ کام کرنے دے۔
بیان کے اختتام پر پی ٹی آئی نے کہا کہ تحقیقات کی شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ پاکستان کی ساکھ، قانون کی بالادستی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کو ہر سیاسی مصلحت پر ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا اور بے گناہ افراد کو مکمل انصاف ملنا چاہیے۔



















































