پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

مری بایو ڈائیورسٹی پارک: ترقی اور قدرتی حیات کے تحفظ کا منفرد پاکستانی ماڈل

datetime 6  جولائی  2026 |

مری: پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کے تحفظ کو یکجا کرنے کی ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے مری بایو ڈائیورسٹی پارک کی ازسرِنو تعمیر و ترقی کے دوران خصوصی ماہرینِ حیاتیاتی تنوع تعینات کیے، تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران قدرتی نباتات، جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس منصوبے میں بطور بایو ڈائیورسٹی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے والے مدثر مقبول نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، قدرتی مساکن کے انتظام، ماحولیاتی جائزوں اور عوامی آگاہی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ منصوبے میں منیجر بایو ڈائیورسٹی، بایو ڈائیورسٹی اسپیشلسٹ اور فیلڈ افسران کی تقرری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقیاتی کاموں کو ماحولیاتی حساسیت اور مقامی نباتات و جنگلی حیات کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا گیا۔

مدثر مقبول نے پارک کی حیاتیاتی تنوع کی دستاویز سازی، نباتات و حیوانات کی نگرانی، ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی، قدرتی مساکن کے بہتر انتظام اور بایو ڈائیورسٹی سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے منصوبے کے دوران تکنیکی رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے میں بھی معاونت کی کہ تحفظِ ماحول ہر مرحلے پر بنیادی ترجیح رہے۔

یہ منصوبہ اس بات کی عملی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں ماہرینِ حیاتیاتی تنوع کو براہِ راست شامل کیا جائے تو ماحولیاتی اثرات کو کم کرتے ہوئے قدرتی وسائل کا پائیدار تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

*مری بایو ڈائیورسٹی پارک* پاکستان کے اولین بایو ڈائیورسٹی پارکس میں شمار ہوتا ہے اور اب عوام کے لیے افتتاح کے قریب ہے۔ توقع ہے کہ یہ پارک نہ صرف تفریح کا بہترین مرکز بنے گا بلکہ ماحولیاتی تعلیم، حیاتیاتی تنوع سے متعلق آگاہی اور سائنسی تحقیق کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

یہ منصوبہ سیکرٹری محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی کی قیادت میں تیار کیا گیا، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر صبا افضل نے صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کے مطابق اس پر عمل درآمد کی نگرانی کی۔

یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی صرف اسی صورت پائیدار ہو سکتی ہے جب بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ساتھ ساتھ چلیں۔ مری بایو ڈائیورسٹی پارک اسی وژن کی ایک کامیاب مثال ہے، جو پاکستان کے قدرتی ورثے کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور عوامی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…