جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پسند کی شادی کے بعد گاؤں نذرِ آتش، لڑکی کے والد کا سنسنی خیز ویڈیو بیان سامنے آگیا

datetime 18  مئی‬‮  2026 |

جیکب آباد(این این آئی)جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع نے سنگین صورتحال اختیار کر لی،

جہاں مبینہ طور پر دو برادریوں کے درمیان کشیدگی کے بعد درجنوں گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ واقعے کے بعد لڑکی کے والد رفیق چنہ کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے اپنی کم عمر بیٹیوں کے اغوا اور جھوٹے مقدمات کا الزام عائد کیا ہے۔لڑکی کے والد رفیق چنہ نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ ان کی دو بیٹیوں کو رات کے وقت اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک بیٹی کی عمر 14 سال جبکہ دوسری کی عمر صرف 4 سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر بچی کی شادی کسی صورت قانونی نہیں ہو سکتی اور وہ پولیس حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں۔رفیق چنہ نے کہا کہ میری بیٹیاں بھی مجھ سے چھین لی گئیں، مجھ پر اور میرے گاں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگی ہے، ہم کیوں کسی کے گھر جلائیں گے؟ انہوں نے دعوی کیا کہ مخالفین نے اپنے گھروں کو خود آگ لگائی اور بعد ازاں ان کی برادری کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔دوسری جانب پولیس کے مطابق پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا تعلق گائوں صدیق آرائیں اور گائوں غازی خان چنہ سے ہے۔ ایس ایس پی جیکب آبادفیضان علی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکے اور لڑکی نے 4 مئی کوحیدرآبادکی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد دونوں خاندانوں اور برادریوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔

ادھر شادی کرنے والی لڑکی نے اپنے بیان میں دعوی کیا ہے کہ اس کی عمر 20 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے عدالت میں شادی کی۔ اس بیان کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ لڑکی کے والد مسلسل یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے اور سندھ میرج ایکٹ کے تحت اس شادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔واقعے کے بعد برڑو برادری کے گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کے الزام میں چنہ برادری کے 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ اب تک 5 ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے تاکہ مزید تصادم یا بدامنی سے بچا جا سکے۔علاقہ مکینوں کے مطابق مسلح افراد نے متعدد گھروں پر حملہ کیا، فائرنگ کی اور املاک کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ سندھ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پولیس حکام کے مطابق دونوں فریقین کے بیانات، عدالتی ریکارڈ، نکاح نامے اور لڑکی کی عمر سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اغوا، آتشزدگی اور فائرنگ کے تمام پہلوئوں پر الگ الگ تحقیقات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…