اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے
اسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور جنوبی ایشیا کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا اہم حصہ ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت بھی ہے۔ کسی خودمختار ریاست کے وجود پر سوال اٹھانا سنجیدہ سفارتی رویہ نہیں بلکہ خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔بھارتی آرمی چیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خطے کی تاریخ اور جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ سوچ ہندوتوا نظریے کے زیر اثر پیدا ہونے والی انتہا پسندانہ ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے، جو آج تک پاکستان کے قیام کو دل سے قبول نہیں کر سکی۔ترجمان کے مطابق کسی ایٹمی ریاست کو مٹانے کی دھمکیاں دینا اسٹریٹجک دانشمندی نہیں بلکہ ’’ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ‘‘ کا مظہر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت یا جغرافیائی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کو متاثر کریں گے۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ذمہ دار ایٹمی ممالک تحمل، سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہیں،
جبکہ نفرت انگیز زبان اور برتری کے دعوے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔بیان میں بھارت پر خطے میں عدم استحکام، سرحد پار کارروائیوں، دہشت گردی کی پشت پناہی اور عالمی سطح پر پروپیگنڈا مہمات چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق ’’معرکۂ حق‘‘ میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی پریشانی واضح دکھائی دے رہی ہے۔پاک فوج نے زور دیا کہ بھارت کو خطے میں امن اور پرامن بقائے باہمی کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سیاسی اور اسٹریٹجک صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔



















































