لاہور (این این آئی) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ جو لوگ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے لیے نعرے لگاتے ہیں وہ خود ہی نہیں چاہتے کہ یہ ملاقات ہو،عمران خان کے گھر پر عید منانے سے متعلق دعوے درست معلوم نہیں ہوتے اور موجودہ سیاسی صورتحال میں ان کی رہائی کے امکانات واضح نظر نہیں آتے۔
ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سب سے بڑی غلطی علی امین کو ہٹانا تھی کیونکہ ان کو وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے بعد تمام دروازے بند ہو گئے ہیں۔ عمران خان کو جن لوگوں سے امیدیں تھیں وہ اب مختلف سمت میں جاچکے ہیں اور پارٹی کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو عمران خان کی ملاقاتیں محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بعض لوگ خود یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں عمران خان سے نہ ملوایا جائے تاکہ وہ تحریک کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہ کرسکیں۔شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین کے مقابلے میں پارٹی کے اندر ہی یہ بات کی جا رہی ہے کہ سہیل آفریدی عوام میں زیادہ مقبول ہیں، تاہم اگر کوئی بھی رہنما عملی طور پر عوام کے درمیان جائے تو اس کی اصل مقبولیت سامنے آجائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض رہنمائوں نے اپنی پوری ٹیم سوشل میڈیا خصوصا ٹک ٹاک پر بنا رکھی ہے اور مختلف گروپس ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مہم چلاتے ہیں۔پی ٹی آئی کی جیل سے باہر قیادت میں تبدیلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی تبدیلی کی توقع نہیں اور عمران خان غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں احتجاج، مارچ اور سیاسی سرگرمیوں کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور خیبر پختوانخواہ ہائوس کے باہر ہونے والے احتجاجوں میں صرف 150سے 200افراد شریک تھے، ایسے احتجاج کسی موثر سیاسی دبا ئوکے طور پر شمار نہیں کیے جا سکتے،اس نوعیت کے اجتماعات تو عام دکانوں کے باہر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان کو اپنی قیادت اور سیاسی سمت پر خود نظرثانی کرنا ہوگی اور موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، ورنہ موجودہ طریقہ کار سے کوئی بڑا سیاسی نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔



















































