بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کا صوابی میں احتجاج، 3گھنٹوں تک پھنسی ہوئی ایمبولینس میں خاتون مریضہ دم توڑ گئیں

datetime 14  فروری‬‮  2026 |

صوابی (این این آئی) بانی عمران خان کی خراب صحت ،جیل میں علاج کی عدم سہولیات کیخلاف کارکنوں کے صوابی انٹرچینج کے مقام پر

احتجاج کے دوران موٹر وے کی بندش سے3گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس میں موجود خاتون مریضہ دم توڑ گئیں۔پی ٹی آئی کارکنان نے مبینہ طور پر خاتون کے بیٹے اور شوہر پر بدترین تشدد کیا ،اس دوران ایمبولینس ڈرائیور قادر خان بھی زخمی ہوئے۔صوابی انٹرچینج میں احتجاج کے باعث موٹر وے کی دوسرے دن بندش کی وجہ سے پشاور، لاہور اور راولپنڈی جانے والی گاڑیوں کی آمد و رفت صوابی ٹوپی روڈ سے جاری رہی جبکہ پی ٹی آئی کارکنوں نے دھرنے کے دوران موٹر وے سائیڈ پر لگی اینٹیں اکھاڑ کر روڈ پر رکھ کر موٹر وے ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔اس موقع پر عوام اور مسافروں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو آخر کس بات کی سزا دی جا رہی ہے، اس قسم کی حرکتوں سے صوبے کے عوام پی ٹی آئی سے متنفر ہورہے ہیں، یہ روز روز کا احتجاج اور خیبرپختونخوا کے راستے اور شاہرائیں بند کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔عوام نے کہا کہ قیدی نمبر 804 کو رہا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ، پی ٹی آئی کے ارکان اپنے صوبائی، قومی اور سینیٹ کی نشستوں سے مستعفی ہوں اور سروں پر کفن باندھ کر اڈیالہ جاکر احتجاج تب تک جاری رکھیں جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جدو جہد کے نتیجے میں عمران خان کبھی بھی جیل سے باہر نہیں آسکیں گے، ان کی اس جدوجہد سے عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…