بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

26 سالہ جرمن ڈاکٹر نے منڈی بہاءالدین پہنچ کر پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی

datetime 21  جنوری‬‮  2026 |

منڈی بہائوالدین(این این آئی)26 سالہ جرمن ڈاکٹر پاکستانی نوجوان کی محبت میں منڈی بہائو الدین پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق منڈی بہائو الدین کے گاؤں دیفار سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان محمد اکمل نے 26 سالہ جرمن ڈاکٹر سلما کو پاکستان بلاکر محبت کی شادی کرلی۔ایک انٹرویو میں محمد اکمل نے بتایا کہ انکی بات چیت آن لائن گیم روبلوکس سے شروع ہوئی اور تقریباً پانچ ماہ تک وہ ایک دوسرے سے آن لائن بات چیت کرتے رہے جس کے بعد سلما نے پاکستان آ کر ان سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اکمل نے بتایا کہ پہلے دن ہی انہوں نے سلما کو پروپوز کردیا تھا اور کچھ دنوں کی رکاوٹ کے بعد وہ پاکستان پہنچ گئیں۔ سلما نے بتایا کہ پاکستان آ کر گاؤں کی زندگی اور روزمرہ کے کام دیکھ کر انہیں ابتدا میں حیرت ہوئی مگر وہ خوش تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہیں۔

سلما نے بتایا کہ گاؤں کے کام جیسے کپڑے اور برتن دھونا اور روٹی بنانا ایک نیا تجربہ تھا اگرچہ پہلے دنوں میں مشکل محسوس ہوئی مگر انہوں نے اسے سیکھا۔ اکمل نے بتایا کہ شادی میں خاندان کی مکمل مدد حاصل تھی اور تقریباً 45 لاکھ روپے خرچ ہوئے جس میں سفری اخراجات اور شادی کی تقریب شامل تھی،سلما کے پاس دو پاسپورٹ ہیں، جرمن اور بوسنیائی، اور وہ پاکستان میں اپنی زندگی اکمل کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں۔ سلما نے بتایا کہ وہ پنجابی اور اردو بھی سیکھ رہی ہیں تاکہ کمیونیکیشن میں آسانی ہو۔ اکمل نے کہا کہ شادی کے بعد زندگی خوشگوار ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے رہ رہے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین نے جوڑے کی سادگی، خلوص اور محبت کو سراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…