کراچی(این این آئی)اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود ہر پاکستانی خود کو مالی طور پر کمزور اور غریب کیوں محسوس کررہا ہے، ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامکس کی سروے رپورٹ نے ڈیٹا جاری کردیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وطن عزیز جامع ترقی کے بجائے اس کی مخالف سمت میں بڑھ رہا ہے۔یہ سروے تیکنیکی طور پر مضبوط ہے، 32 ہزار گھرانوں پر مشتمل شہری و دیہی علاقوں اور تمام معاشی طبقات کی نمائندگی کرتا ہے اور پہلی بار مکمل طور پر ڈیجیٹل بنیادوں پر کیا گیا۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ حکومت کے ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران شہریوں کی اوسط آمدنی میں 97 فیصد اضافہ ہوا جب کہ 2019 سے 2025 تک گھریلو اخراجات 113 فیصد بڑھ گئے، ملک میں اوسطا ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھوک، غربت نہیں قومی ایمرجنسی بنتی جا رہی ہے اور ہر چار میں سے ایک پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔سروے کے مطابق اخراجات میں سب سے زیادہ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ کیے گئے، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے ہر چار میں سے ایک گھرانے کو مناسب خوراک میسر نہیں جبکہ صرف چھ برس میں غذائی عدم تحفظ میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال شہری علاقوں میں ہے جہاں مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کم کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور سندھ شدید متاثر ہیں مگرحیرت انگیزطور پر پنجاب سستی روٹی جیسے منصوبوں کے باوجود بھوک پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ ماہرین نے کرونا، 2022 کے تباہ کن سیلاب اور مسلسل مہنگائی کو اس کا سبب قرار دیا ہے۔سروے کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر)کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔پاکستان میں قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔















































