بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

بسنت: موٹرسائیکل سواروں کیلئے نئے قانون کا اعلان

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئندہ ماہ لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول منعقد کیا جائے گا، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران تمام موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانا لازمی ہوگا۔لاہور کی کمشنر مریم خان کے مطابق ’’محفوظ بسنت‘‘ کا انعقاد 6، 7 اور 8 فروری کو صرف لاہور کے اضلاع کی حدود تک محدود ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتائی، جس میں پتنگ بازی سے وابستہ تنظیموں، پولیس افسران اور انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔کمشنر نے وضاحت کی کہ پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کے تحت فیسٹیول کے دوران بغیر سیفٹی راڈز کے موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے شہر بھر میں 100 روڈ سیفٹی کیمپس قائم کیے جائیں گے، جہاں اندازاً 10 لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز نصب کیے جائیں گے۔انتظامیہ کے مطابق ہر کیمپ روزانہ تقریباً 50 سے 60 ہزار موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانے کی صلاحیت رکھے گا۔ مریم خان نے واضح کیا کہ 6 فروری سے قبل پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ پتنگوں اور اس سے متعلق سامان کی تیاری صرف لاہور کے اندر کی جا سکے گی، جبکہ پتنگوں کی فروخت یکم فروری سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہے گی۔کمشنر نے خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک غیر قانونی پتنگ بازی پر 204 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وہی مینوفیکچررز، تاجر اور دکاندار کام کرنے کے اہل ہوں گے جو رجسٹرڈ ہوں اور جن کے پاس این او سی موجود ہو۔مریم خان نے پتنگ بازی ایسوسی ایشنز اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ بسنت کے کامیاب انعقاد کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…