کراچی (این این آئی)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے کے لیے 84 ارب روپے سے زائد کا پیکیج دینا چاہتا ہوں۔فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے وفد نے ڈی جی میجر جنرل عبدالسمیع کی سربراہی میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضی وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی شریک ہوئے۔ملاقات کے دوران وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم کراچی کی ترقی کا جامع منصوبہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکیج دینا چاہتا ہوں۔
اس کے علاوہ شہر کے لیے 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری قائم کر کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر کراچی کے تمام میگا اور اہم منصوبوں کی بہترین ڈیزائننگ ہونی چاہیے۔ کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اہم منصوبوں میں ایم نائن جناح ایونیو تا شاہراہ فیصل تک سڑک کی تعمیر شامل ہے، جو سپر ہائی وے اور شہر کی اہم شاہراہوں سے منسلک ہے۔وزیراعلی سندھ کے مطابق ملیر ہالٹ پرنٹنگ پریس سے شاہراہ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کی تعمیر کا منصوبہ ہے، کیونکہ ملیر ہالٹ پر ٹریفک کا ایک بڑا بوتل نیک موجود ہے جسے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور کی تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے ایئرپورٹ تا شاہراہِ فیصل تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وائی جنکشن سے مچھلی چوک(ہاکس بے روڈ) کی تعمیر کی جائے گی۔
اسی طرح مسرور بیس تا ٹرک اسٹینڈ تک سڑک کی تعمیر بھی ساتھ ہوگی۔ یہ منصوبے کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے لیے شامل ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ شہر کا گیٹ وے ہے اور یہاں شدید ٹریفک کا دبا رہتا ہے، فلائی اوور بننے سے ٹریفک کا دبا ختم ہو جائے گا۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مزید 7 منصوبے ایسے ہیں جن کے لیے میں 84.7 ارب روپے فراہم کر رہا ہوں، کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں 443 اندرونی سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، ٹریفک مینجمنٹ کے لیے 9 منصوبے بنائے گئے ہیں اور کے ایم سی کی 26 سڑکوں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز میں بہتری کے کام جاری ہیں جب کہ شہر کے 9 اہم منصوبوں کی تعمیر، 10 مختلف علاقوں میں اہم سڑکوں کی تعمیر اور 7 مختلف سڑکوں کی بیوٹیفکیشن کے منصوبے بھی شامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او کے انجینئرز، محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کے اعلی افسران مشترکہ طور پر منصوبوں کی ڈیزائننگ کا کام فوری شروع کریں گے۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی سے متعلق مسائل فروری میں مکمل ہونے چاہییں اور مارچ 2026 سے ترقیاتی کام شروع کر دیے جائیں۔















































