ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان میں طلاق کی شرح ؛حیران کن رپورٹ سامنے آگئی

datetime 29  ستمبر‬‮  2025 |

پاکستان اور دنیا میں طلاق کی شرح: عوامل اور رجحانات

پاکستان میں طلاق کے زیادہ تر واقعات کی وجوہات معاشی دباؤ اور سماجی مسائل قرار دی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہاں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن عالمی سطح پر موازنہ کیا جائے تو یہ اب بھی کم تصور کی جاتی ہے۔

وہ ممالک جہاں طلاق کی شرح کم ہے

اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے چند ممالک میں طلاق کی شرح نہایت کم ہے۔ ان میں بھارت 0.1 فیصد کے ساتھ سب سے نمایاں ہے، ویتنام، سری لنکا اور پیرو 0.2 فیصد، جنوبی افریقہ 0.4 فیصد، جبکہ مالٹا اور گوئٹے مالا میں یہ شرح 0.6 فیصد ہے۔ آئرلینڈ اور وینزویلا میں 0.7 فیصد جبکہ ہنگری میں 0.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ شرح ہر ہزار شادی شدہ جوڑوں پر نکاح کے خاتمے کی نمائندگی کرتی ہے۔

وہ ممالک جہاں طلاق عام ہے

دوسری طرف طلاق کی بلند ترین شرح مالدیپ، قزاقستان، روس، جارجیا، لیتھوانیا، امریکہ، چین، کیوبا، فن لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، یوکرین اور کینیڈا جیسے ممالک میں پائی جاتی ہے۔ مالدیپ کو سب سے زیادہ شرح والے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ وہاں طلاق کا عمل نہایت آسان اور کم خرچ ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک جیسے سویڈن، لکسمبرگ اور فن لینڈ میں بھی یہ شرح خاصی زیادہ ہے۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ شمالی یورپ اور روسی فیڈریشن میں شرح طلاق دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان میں صورتِ حال

گزشتہ پانچ برسوں میں پنجاب میں طلاق کے کیسز میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ صرف راولپنڈی کی عدالتوں میں رواں برس 4,980 مقدمات درج ہوئے، جن میں ایک ہزار سے زائد خواتین کی جانب سے خلع کی درخواستیں شامل تھیں۔ رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ کیسز ان جوڑوں کے تھے جن کی شادیاں بیرون ملک مقیم افراد سے ہوئیں۔

دیہات اور شہروں میں فرق

پاکستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کی شرح شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس کی بڑی وجہ سماجی دباؤ، روایتی طرزِ زندگی اور خواتین کی معاشی انحصار ہے۔ گاؤں میں زیادہ تر شادیاں خاندان کی مرضی سے کی جاتی ہیں، جب کہ شہری علاقوں میں تعلیم، معاشی آزادی اور سماجی شعور کی وجہ سے طلاق کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اضافہ واقعی تشویشناک ہے؟

گیلپ کے ایک حالیہ سروے میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا گزشتہ چھ ماہ میں آپ نے کسی قریبی کی طلاق کے بارے میں سنا ہے؟ اس پر صرف 21 فیصد لوگوں نے اثبات میں جواب دیا۔ تاہم سندھ میں 2020 میں طلاق کے کیسز میں سات سو فیصد اضافے کی رپورٹس سامنے آئیں۔

ملک کے دیگر صوبوں میں درست اور باقاعدہ اعدادوشمار میسر نہیں، مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ بہت سی شادیاں مسائل کا شکار ہیں لیکن خواتین کی کمزور معاشی و سماجی حیثیت ان رشتوں کو کسی حد تک قائم رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی خودمختاری تسلیم کرنا اور سماجی شعور کو فروغ دینا ہی اس مسئلے کا دیرپا حل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…