جمعرات‬‮ ، 09 جولائی‬‮ 2026 

پنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے، گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں، نالوں کے اطراف سے انخلا کی وارننگ

datetime 17  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ شب سے شروع ہونے والی مسلسل بارش نے دونوں شہروں کو جل تھل کر دیا ہے۔ شدید بارش کے نتیجے میں نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد کو چھونے لگی، جس کے بعد متعلقہ حکام نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور قریبی آبادیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ریسکیو اداروں کے مطابق، راولپنڈی میں اب تک 200 ملی میٹر جبکہ اسلام آباد میں سیکٹر آئی-12 کے علاقے میں 186 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں۔ ڈھوک کھبہ، چکری روڈ اور پولیس فاؤنڈیشن سمیت مختلف علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ پانی کی بلند سطح کے باعث نالہ لئی کے گرد علاقوں میں سائرن بجا دیے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں الرٹ کر دی گئی ہیں۔نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 20 فٹ اور گوالمنڈی کے پل پر 19 فٹ تک جا پہنچی ہے، جبکہ دریائے سواں کا بہاؤ بھی معمول سے زیادہ ہے اور ایک پل زیرِ آب آ چکا ہے۔

ٹریفک کی روانی میں بھی رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں اور کئی اہم سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔صورتحال کے پیش نظر، راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیا گیا۔ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے صوبے کے متعدد علاقوں میں “رین ایمرجنسی” نافذ کر دی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر راولپنڈی میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، اور نالہ لئی کے اطراف کے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایات دی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید بارش اور سیلابی صورت حال میں تمام سرکاری ادارے پوری مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور سائرن یا اعلانات کی صورت میں فوری طور پر اقدامات کریں۔واساکے ایم ڈی نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر پاک فوج سے مدد لینے کے لیے ٹرپل ون بریگیڈ سے رابطہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بعض علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، خاص طور پر چکری کے علاقے لادیاں میں جہاں ایک خاندان بچوں سمیت چھت پر محصور ہو گیا تھا۔ادھر جہلم، وادی نیلم اور دیگر علاقوں میں بھی طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ندی نالے بپھر گئے ہیں اور مقامی انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوجی مدد طلب کر لی ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث حکام نے شہریوں کو سخت احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔



کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…