پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بھارت کا پاکستان کیخلاف اسرائیلی ساختہ ڈرون کا استعمال لیکن یہ کیا صلاحیت رکھتا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 25 اسرائیلی ساختہ ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان تمام ڈرونز کا تعلق ہیروپ ماڈل سے ہے، جن کا ملبہ مختلف علاقوں سے جمع کیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں اور ریسرچ اداروں کے مطابق، یہ ڈرونز اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کی جانب سے تیار کیے گئے ہیں اور انہیں ’’سٹینڈ آف لوئٹرنگ مونی شن سسٹم‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ نظام ایسے ہتھیاروں پر مشتمل ہے جو پہلے اپنے ہدف کی شناخت کرتے ہیں، اس کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر انتہائی درستگی کے ساتھ حملہ کر کے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

یہ ڈرونز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں اور دو طرفہ ڈیٹالنک کی مدد سے ان کا کنٹرول ممکن ہوتا ہے۔ اسرائیلی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان ڈرونز کو فضائی دفاع، شہری علاقوں میں جنگی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہیروپ ڈرونز کی پرواز کی رفتار تقریباً 225 ناٹس (تقریباً 415 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ہوتی ہے، جبکہ اس کی مواصلاتی حدود 200 کلومیٹر اور مجموعی آپریشنل رینج 1000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ ان خصوصیات کے باعث یہ ڈرونز نہ صرف دور دراز اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں بلکہ انٹیلیجنس اکٹھا کرنے کے لیے بھی انتہائی کارآمد تصور کیے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…