منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا پاکستان کیخلاف اسرائیلی ساختہ ڈرون کا استعمال لیکن یہ کیا صلاحیت رکھتا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 25 اسرائیلی ساختہ ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان تمام ڈرونز کا تعلق ہیروپ ماڈل سے ہے، جن کا ملبہ مختلف علاقوں سے جمع کیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں اور ریسرچ اداروں کے مطابق، یہ ڈرونز اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کی جانب سے تیار کیے گئے ہیں اور انہیں ’’سٹینڈ آف لوئٹرنگ مونی شن سسٹم‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ نظام ایسے ہتھیاروں پر مشتمل ہے جو پہلے اپنے ہدف کی شناخت کرتے ہیں، اس کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر انتہائی درستگی کے ساتھ حملہ کر کے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

یہ ڈرونز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں اور دو طرفہ ڈیٹالنک کی مدد سے ان کا کنٹرول ممکن ہوتا ہے۔ اسرائیلی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان ڈرونز کو فضائی دفاع، شہری علاقوں میں جنگی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہیروپ ڈرونز کی پرواز کی رفتار تقریباً 225 ناٹس (تقریباً 415 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ہوتی ہے، جبکہ اس کی مواصلاتی حدود 200 کلومیٹر اور مجموعی آپریشنل رینج 1000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ ان خصوصیات کے باعث یہ ڈرونز نہ صرف دور دراز اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں بلکہ انٹیلیجنس اکٹھا کرنے کے لیے بھی انتہائی کارآمد تصور کیے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…