پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

میو ہسپتال کے ایم ایس کا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے برطرفی کے حکم سے پہلے ہی مستعفی ہونے کا انکشاف

datetime 7  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میو ہسپتال کے ناقص انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر فیصل مسعود کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ تاہم، یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر فیصل مسعود پہلے ہی 12 فروری 2025 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے تھے۔ انہوں نے اپنے اضافی عہدے، یعنی چیف آپریٹنگ آفیسر/میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ صحت کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ذاتی وجوہات کے باعث مزید ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ ان کا استعفیٰ حکومت کو موصول ہو چکا تھا، لیکن انہیں تاحال عہدے سے ریلیو نہیں کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میو ہسپتال کے اچانک دورے کے دوران مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی بے شمار شکایات سنیں۔ مریضوں کو مفت ادویات کی عدم دستیابی، صفائی کی خراب صورتحال اور عملے کی بدانتظامی نے انہیں شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے ایم ایس کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا۔

دورے کے دوران ایک کمسن بچی نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ وہ پوری رات اپنی بیمار والدہ کے لیے دوا کی تلاش میں بھٹکتی رہی مگر کہیں سے بھی دوا نہ مل سکی۔ یہ سن کر مریم نواز مزید ناراض ہوئیں اور فوری ایکشن لینے کی ہدایت دی۔ اسی طرح، کارڈیالوجی وارڈ میں کیڑے مکوڑوں کی موجودگی کی شکایت پر بھی وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ کو سخت تنبیہ کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ایم ایس کو برطرف کرنے کا حکم دیا گیا، وہ پہلے ہی اپنا استعفیٰ دے چکے تھے۔ میو ہسپتال اس وقت شدید مالی بحران اور قرضوں میں مبتلا ہے، اور اگر مریضوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کی وجہ فنڈز کی کمی ہے، تو اس کی ذمہ داری براہ راست صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…