بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

39 لاکھ لوگوں کیلئے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کا شارٹ کوڈ جاری

datetime 20  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)20 ارب روپے سے زائد مالیت کے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کے لیے شارٹ کوڈ 9999 استعمال کیاجائیگا، وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کو اہم احکامات جاری کر دیے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت آئی ٹی کو شارٹ کوڈ کو رمضان ریلیف پیکیج کے پیغامات کی تصدیق یقینی بنانے، موبائل نمبرز کے ساتھ شناختی کارڈ کو میچ کرنے سے متعلق ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کے تحت 39 لاکھ خاندانوں کو نقد رقم دینے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت آئی ٹی کو رمضان پیکیج کے حوالے سے پیغامات کی تصدیق کے لیے شارٹ کوڈ 9999 کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، رمضان ریلیف پیکیج کے لیے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن میں کنٹرول روم قائم کیا جائیگا۔وزیراعظم شہباز شریف رمضان ریلیف پیکیج کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کرچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کے تحت 39 لاکھ خاندانوں کو نقد رقم دینے کی تجویز ہے، مجوزہ پیکیج کے تحت فی مستحق خاندان کیلئے ایک بار 5 ہزار روپے کی نقد مالی امداد دی جائے گی۔

وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے جٹ کا تخمینہ 20 ارب 50 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، اس باروزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے فراہم نہیں کیا جارہا۔واضح رہے کہ رمضان ریلیف پیکیج کے لیے 2 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ سے دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، وزارت خزانہ وزیر اعظم رمضان ریلیف پیکیج کے لیے 8 ارب 50 کروڑ روپیفراہم کرے گی۔ذرائع کے مطاب رمضان ریلیف پیکیج کے بجٹ میں میڈیا مہم کے اخراجات شامل ہوں گے، مالیاتی اداروں کے چارجز، نادرا فیس اور دیگر اخراجات بھی رمضان پیکیج میں شامل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…