بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور

datetime 18  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) – سینیٹ نے متفقہ طور پر اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل کی منظوری دے دی۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں ملک کے مختلف حادثات اور سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فاتحہ خوانی کا اہتمام سینیٹر شہادت اعوان نے کیا۔

قانون سازی اور بلز کی پیشکش
اجلاس کے دوران سینیٹر ذیشان خانزادہ نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 پیش کیا، جسے حکومتی مخالفت کے باوجود متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اسی طرح، نفسیاتی صحت آرڈیننس 2001 میں مزید ترامیم کے حوالے سے نفسیاتی صحت بل 2025 سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیش کیا، جو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل
سینیٹ اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار نے اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل پیش کیا، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

وزیر پارلیمانی امور اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تجویز دی کہ وہ اراکین جو اضافے کے حق میں نہیں ہیں، وہ اپنا نام لکھوا دیں تاکہ انہیں تنخواہوں میں اضافے سے مستثنیٰ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا طریقہ کار صوبوں میں بھی اپنایا گیا ہے۔

دیگر بلز کی پیشکش
مزید دو بلز ایوان میں پیش کیے گئے، جن میں:

پاکستان سائیکولوجیکل کونسل بل 2024
نیکسس انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ہیلتھ، ایمرجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد بل
یہ دونوں بلز بھی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیے گئے۔

پاکستان میں جنگلی حیوانات اور نباتات کی غیر قانونی تجارت روکنے سے متعلق بل کو دوبارہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جسے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا تھا۔ اس کے علاوہ، انسدادِ عصمت دری ترمیمی بل 2023 بھی منظور کر لیا گیا، جسے سینیٹر ہمایوں مہمند نے پیش کیا۔

اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں تلخ جملوں کا تبادلہ
اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں غربت اور محرومی زیادہ ہے، لیکن حکومت سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ پارلیمانی امور کے وزیر نے خود ہی کورم کی نشاندہی کر دی، جو ایک غیرمعمولی اقدام ہے۔

ان کی تقریر کے بعد اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور نعرے بازی کی، جس پر ڈپٹی چیئرمین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں دباؤ اور شور شرابے میں کوئی قانون سازی نہیں کروں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “آپ لوگوں کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی، آپ کو صرف ہنگامہ آرائی کی تربیت دی گئی ہے، پی ٹی آئی کو سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔”



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…