پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

کراچی کے لاپتا نوجوان کا پتا چل گیا، دو دوستوں نے قتل کیا اور لاش جلادی

datetime 15  فروری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ڈیفنس سے ایک ماہ قبل لاپتا ہونے والے نوجوان مصطفی عامر کی جلی ہوئی لاش حب چوکی کے قریب سے مل گئی ہے، مصطفی کی لاش اس کی جلی ہوئی کار کی ڈگی میں خاکستر حالت میں پائی گئی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے سی پی ایل سی حکام کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اہم کیس کی تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے، 6 جنوری کو 23 سالہ مصطفی عامر اغوا ہوا، بعدازاں مصطفی کی والدہ کو تاوان کے لیے فون کال موصول ہوئی،اس کے بعد ہی کیس سی آئی اے کو ٹرانسفر کیا گیا، کیس میں سی پی ایل سی کا بہت تعاون رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو مقابلے کے بعد (مصطفی کے دوست )ارمغان کو گرفتار کیا گیا تھا، ارمغان کی گرفتاری کے وقت ڈی ایس پی سمیت 2 اہلکار فائرنگ سے زخمی ہوئے، ارمغان کے گھر اے مصطفی کا فون اور قالین پر خون کے نشانات ملے، اس کیس میں حساس ادارے نے بھی مدد کی۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ ارمغان اور شیراز قریبی دوست ہیں، دونوں نے پہلی سے ساتویں جماعت تک ساتھ تعلیم حاصل کی، مصطفی بھی ان کا دوست تھا، ابھی تک کی معلومات کے مطابق گھر میں جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد دونوں ملزمان نے مصطفی کو قتل کیا اور اسی کی گاڑی میں اس کی لاش ڈال دی اورحب چوکی کے قریب لے جاکر جلادی، گاڑی اور لاش جلانے میں ارمغان اور شیراز شامل تھے، ان کے ساتھ اور کون لوگ تھے یہ معلوم کیا جارہا ہے، ہفتہ کو ریمانڈ کے لیے درخواست دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ارمغان کی گرفتاری کے دوران (کمرے کے )قالین سے ملنے والے خون کے نشان اور مصطفی کی والدہ کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں، لاش مصطفی کی ہے، اس کی مزید تصدیق ڈی این اے رزلٹ سے ہوگی۔

ڈی آئی جی نے کہاکہ مصطفی عامر پر منشیات کا ایک کیس درج تھا، انٹرنیشنل گینگ اور ڈرگ کارٹل کی ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی، اس حوالے سے ڈس انفارمیشن پھیلائی جارہی ہے۔ ملزم (ارمغان )ڈرگ ڈیلر تھا یا نہیں تھا یہ تفتیش میں معلوم ہوسکے گا۔قبل ازیں پولیس کے تفتیشی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتا ہونے والے نوجوان مصطفی عامر کی لاش حب چوکی قریب اس کی کار کی ڈگی میں سے جلی ہوئی اور ناقابل شناخت حالت میں مل گئی، جبکہ کار بھی مکمل طور پر جل چکی تھی۔پولیس حکام کے مطابق مصطفی کو6 جنوری کو حب چوکی کے قریب لے جایا گیا تھا، جہاں اس کے دوست ارمغان نے ساتھی کے ساتھ مل کر گاڑی کو آگ لگائی۔

تفتیشی حکام کے مطابق لاپتا مصطی عامر کی لاش دیجی تھانے کی حدود سے ملی ہے۔واضح رہے کہ مصطفی عامر کے لاپتا ہونے کے بعد اس کے والد عامر شجاع اور والدہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مصطفی 6 جنوری کو گھر سے گاڑی لے کر نکلا تھا، مصطفی کے دوست ارمغان سے 4 روز بعد یعنی 10 جنوری کو میں نے رابطہ کیا تو اس کی باتوں سے مجھے اس پر شک ہوا۔

عامر شجاع نے بتایا تھا کہ بیٹے کے دوست سے بات کرنے کے بعد غیر ملکی نمبر سے تاوان کی کال بھی آئی تھی، انہوں نے تمام شواہد پولیس کو فراہم کیے تھے مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔لاپتا نوجوان کے والد نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے بھی ملاقات کی تھی اور ان سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے سلسلے میں مدد کی درخواس کی تھی، جس کے بعد حب چوکی سے تفتیشی حکام نے حب چوکی سے مصطی عامر کی جلی ہوئی گاڑی اور اس کی سوختہ لاش تلاش کرلی ہے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…