پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی کے دورہ پر گئے موبائل فون ڈیلرز غائب،اہم انکشاف سامنے آگیا

datetime 6  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جرمنی کے دورے پر گئے دو پاکستانی موبائل ڈیلرز لاپتہایک نجی پاکستانی موبائل فون کمپنی کے زیر اہتمام جرمنی کے دورے پر جانے والے پشاور سے تعلق رکھنے والے دو موبائل فون ڈیلرز پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کے مطابق، “سکریپ” نامی کمپنی کے 84 ڈیلرز پر مشتمل ایک وفد 20 جنوری کو جرمنی پہنچا تھا۔ تاہم، پہلے ہی دن دو ڈیلرز اچانک غائب ہو گئے، جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔کراچی میں قائم ایک ٹورزم کمپنی کے نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ دونوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع جرمن پولیس کو دے دی گئی تھی۔ مقامی پولیس نے کئی روز تک ان کی تلاش جاری رکھی، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس معاملے کی اطلاع کراچی میں موجود جرمن قونصلیٹ جنرل کو بھی دے دی گئی ہے۔

نجی موبائل فون کمپنی کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، تمام ڈیلرز نے بینک گارنٹی سمیت تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جرمن سفارت خانے سے ویزے حاصل کیے تھے۔ تاہم، دو افراد کے اچانک غائب ہونے کے بعد مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔اس معاملے میں ایک اور چونکا دینے والا الزام بھی سامنے آیا ہے، جس میں کمپنی کے سینئر عہدیدار ذیشان قریشی پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر دونوں ڈیلرز سے 50 لاکھ روپے وصول کر کے ان کی گمشدگی میں معاونت فراہم کی۔

یہ واقعہ پاکستان میں کام کرنے والی موبائل فون کمپنیوں کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو رہا ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ “سکریپ” موبائل کمپنی انسانی اسمگلنگ کے ایک نئے طریقے میں ملوث ہو سکتی ہے، جس میں وہ غیر قانونی طور پر افراد کو بیرون ملک بھیجنے میں مدد کر رہی ہے۔دوسری جانب، حکومتی ذرائع کے مطابق، متعلقہ ادارے اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ لاپتہ ہونے والے افراد کا سراغ لگایا جا سکے اور اس کے پیچھے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…