جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب : سنگین مقدمے میں قید بے گناہ پا کستانی خاندان کی رہائی کیسے ممکن ہوئی؟ ہوشربا انکشافات

datetime 3  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں منشیات کے جھوٹے الزام میں قید کیے گئے ایک ہی خاندان کے پانچ بے گناہ افراد کو بالآخر رہائی مل گئی۔ لاہور ایئرپورٹ پر بیگ کا ٹیگ تبدیل کرکے اس معصوم خاندان کو سازش کا شکار بنانے والے بین الاقوامی منشیات گروہ کے نو ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔تفصیلات کے مطابق، لاہور کی مرغزار کالونی کی رہائشی فرحانہ اکرم اپنے خاندان کے دیگر چار افراد کے ساتھ 23 دسمبر کو سعودی عرب روانہ ہوئیں۔

تاہم، ایئرپورٹ پر موجود ڈرگ مافیا کے کارندوں نے عملے کی ملی بھگت سے ان کے سامان کا ٹیگ تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں انہیں 30 دسمبر کو سعودی حکام نے حراست میں لے لیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران ایک پورٹر کو گرفتار کر کے تفتیش کی گئی تو بین الاقوامی منشیات گروہ کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔

گرفتار شدہ ملزم کی نشاندہی پر گینگ کے سرغنہ سمیت نو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔اے این ایف نے تمام شواہد سعودی حکام کو فراہم کیے، جس کے بعد متاثرہ خاندان کی رہائی ممکن ہو سکی۔ وطن واپسی پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بخیریت واپسی پر مبارکباد دی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس خاندان پر گزرنے والی تکلیف الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اے این ایف کی محنت اور سعودی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں اصل مجرمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس موقع پر اے این ایف کے ریجنل ڈائریکٹر بریگیڈیئر سکندر حیات، ڈائریکٹر انفورسمنٹ بریگیڈیئر عمران، ڈائریکٹر انٹیلیجنس کرنل کامران سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…