منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

خان نے کہا مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں جن کے پاس اصل طاقت ہے، شعیب شاہین

datetime 10  جنوری‬‮  2025 |

راولپنڈی(این این آئی)پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ عمران خان کا کہنا ہے مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں جن کے پاس اصل طاقت ہے، میں بھی یہی کہتا ہوں جب حکومت کے پاس اختیار نہیں تو مذاکرات میں کیوں بیٹھے ہیں؟اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی معیشت بہتر ہوگئی جبکہ ایک کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، بانی نے کہا حکومت نے معیشت کو تباہ کیا ہے بانی نے کہا معیشت کی بہتری کیلئے قانون کی حکمرانی ضروری ہے بانی نے کہا معیشت کیلئے سرمایہ کاری ضروری ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے کیا ایک سال چاہیے، جوڈیشل کمیشن میں 26 نومبر کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے، جوڈیشل کمیشن فوری طور پر بننا چاہیے، 26 نومبر سے قبل مذاکرات ایک ٹریپ تھا مذاکراتی کمیٹی کو آج تک ملنے نہیں دیا گیا تو حکومت کی سنجیدگی واضح ہے آج علیمہ خان کو بھی جیل کے اندر جانے سے روکا گیا کیونکہ وہ بولتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم الزام تراشی نہیں کررہے ہم سچ بولتے ہیں بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں جن کے پاس اصل طاقت ہے، ہمارے دو معصومانہ مطالبات ہیں ایک جوڈیشل کمیشن اور قیدیوں کی رہائی، ہم نے کہا ہے سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور ہم یہ بھی کہہ رہے ہیں مقدمات بازی بھی ختم ہونی چاہیے۔شعیب شاہین نے کہا کہ عرفان صدیقی نے کہا ہے ہم سے وہ مطالبہ کرو جس کا ہمارے پاس اختیار ہے، جب حکومت کے پاس اختیار نہیں تو مذاکرات میں کیوں بیٹھے ہیں؟ ہمارے مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان صاحبزادہ حامد رضا ہیں مذاکرات کے حوالے سے جو بات کرنی ہوگی صاحبزادہ حامد رضا کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…