منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں سردی کی شدت میں اضافے سے 13 افراد جاں بحق

datetime 7  جنوری‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں سردی کی شدت میں اضافہ کے سبب گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں ٹھنڈ لگنے سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔ان افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے ملیں جو ناقابل شناخت ہیں، بیشترلاشوں کی تدفین کردی گئی،جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد نشے کے عادی بتائے جاتے ہیں۔چھیپا فائونڈیشن کے ترجمان چوہدری شاید حسین نے بتایا کہ دسمبر 2024 سے لے کر تاحال شہر قائد میں نشے کی زیادتی کے سبب 43 افراد جاں بحق ہوئے، ان میں 42 مرد اور 1 خاتون شامل ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان جاں بحق افراد میں 13 سے زائد افراد ایسے ہیں جو ممکنہ طور ٹھنڈ لگنے کے سبب جاں بحق ہوئے ہیں،یہ جاں بحق افراد نشے کے عادی تھے ۔انہوں نے بتایا کہ سردی سے بچا کے لیے ان افراد کے پاس کوئی لحاف گدا کمبل یا بستر نہیں تھا، یہ افراد ٹھنڈ سے بچنے کے لیے مقدار سے زیادہ نشہ کرتے ہیں اور اس لیے کسی پل، فٹ پاتھ یا محفوظ مقام پر جاکر سونے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ان کے پاس کوئی گرم کپڑے یا بستر نہ ہو تو نشہ کرنے کے باوجود ان کو سردی زیادہ لگتی ہے، سردی کے ساتھ نشہ کی زیادتی ممکنہ طور پر ان افراد کی وجہ موت بنتی ہے۔

ترجمان چھیپا نے بتایا کہ اس لیے سردی کے موسم میں شہر کے فٹ پاتھوں پر لاوارث اور ناقابل شناخت لاشیں ملتی ہیں، ان لاوارث میتوں کی تدفین ادارہ اپنے وسائل سے کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کراچی میں سردی زیادہ پڑرہی ہے، سیکڑوں بے گھر افراد فٹ پاتھوں، کھلے مقامات اور پلوں کے نیچے رات کو سوتے ہیں جن میں اکثریت کے پاس گرم کپڑے اور بستر کمبل و لحاف نہیں ہوتا۔چوہدری شاہد حسین نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ بے گھر افراد کو سردی سے بچانے کے لیے بستر کمبل اور لحاف عطیہ کریں، چھیپا ان بے گھر افراد کو سردی سے محفوظ بنانے کے لیے اقدام کررہا ہے جس کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…