منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں سردی کی شدت میں اضافے سے 13 افراد جاں بحق

datetime 7  جنوری‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں سردی کی شدت میں اضافہ کے سبب گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں ٹھنڈ لگنے سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔ان افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے ملیں جو ناقابل شناخت ہیں، بیشترلاشوں کی تدفین کردی گئی،جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد نشے کے عادی بتائے جاتے ہیں۔چھیپا فائونڈیشن کے ترجمان چوہدری شاید حسین نے بتایا کہ دسمبر 2024 سے لے کر تاحال شہر قائد میں نشے کی زیادتی کے سبب 43 افراد جاں بحق ہوئے، ان میں 42 مرد اور 1 خاتون شامل ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان جاں بحق افراد میں 13 سے زائد افراد ایسے ہیں جو ممکنہ طور ٹھنڈ لگنے کے سبب جاں بحق ہوئے ہیں،یہ جاں بحق افراد نشے کے عادی تھے ۔انہوں نے بتایا کہ سردی سے بچا کے لیے ان افراد کے پاس کوئی لحاف گدا کمبل یا بستر نہیں تھا، یہ افراد ٹھنڈ سے بچنے کے لیے مقدار سے زیادہ نشہ کرتے ہیں اور اس لیے کسی پل، فٹ پاتھ یا محفوظ مقام پر جاکر سونے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ان کے پاس کوئی گرم کپڑے یا بستر نہ ہو تو نشہ کرنے کے باوجود ان کو سردی زیادہ لگتی ہے، سردی کے ساتھ نشہ کی زیادتی ممکنہ طور پر ان افراد کی وجہ موت بنتی ہے۔

ترجمان چھیپا نے بتایا کہ اس لیے سردی کے موسم میں شہر کے فٹ پاتھوں پر لاوارث اور ناقابل شناخت لاشیں ملتی ہیں، ان لاوارث میتوں کی تدفین ادارہ اپنے وسائل سے کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ کراچی میں سردی زیادہ پڑرہی ہے، سیکڑوں بے گھر افراد فٹ پاتھوں، کھلے مقامات اور پلوں کے نیچے رات کو سوتے ہیں جن میں اکثریت کے پاس گرم کپڑے اور بستر کمبل و لحاف نہیں ہوتا۔چوہدری شاہد حسین نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ بے گھر افراد کو سردی سے بچانے کے لیے بستر کمبل اور لحاف عطیہ کریں، چھیپا ان بے گھر افراد کو سردی سے محفوظ بنانے کے لیے اقدام کررہا ہے جس کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…