جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

ناقص دفاعی ٹیکنالوجی، بھارتی بحریہ کو خطرے سے دوچار

datetime 14  دسمبر‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی )بھارت کی کم ترقی یافتہ دفاعی ٹیکنالوجی نے اس کی بحریہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں پچھلی دہائی میں 15 بڑے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ان میں 2014 کا آئی این ایس سندھوراتنا آتشزدگی کا واقعہ شامل ہے، جس میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔بھارت کی پہلی ایٹمی آبدوز، آئی این ایس اریہانت، ایک حادثے کے باعث 10 ماہ تک ناکارہ رہی، جس سے آلودگی کے خدشات پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ، آئی این ایس اری گھاٹ کی تعمیر میں تین سال کی تاخیر نے ملک کی تکنیکی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بھارتی بحریہ میں خریداری کے عمل میں کرپشن عام ہے، جیسے 2006 میں اسلحہ خریداری میں کک بیکس اور 2013 کے ٹارپیڈو معاہدے میں بے ضابطگیاں، جو بحری ساز و سامان کے معیار کو متاثر کرتی ہیں۔ ایٹمی ٹیکنالوجی میں ناقص مواد کے استعمال سے ماحولیاتی نقصانات بھی ہوئے ہیں، جس کے باعث زیر آب ایٹمی حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے 140 ملین افراد کے باوجود، بھارت اپنی ایٹمی آبدوزوں پر اربوں روپے خرچ کر رہا ہے، جس سے سماجی اور ماحولیاتی ضروریات پر فوجی توسیع کو ترجیح دینے کے اخلاقی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

ان خطرات کو کم کرنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کو میری ٹائم سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ پر توجہ دینا ہوگی، جس کے لیے باقاعدہ آڈٹ اور احتساب کے نظام کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی جوہری تحفظ کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی اداروں جیسے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ تعاون بھی ناگزیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…