اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

اڈیالہ جیل میں عمران خان، فیملی اور دیگر رہنمائوں میں تکرار

datetime 9  دسمبر‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)اڈیالہ جیل راولپنڈی میں توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت پر بانی پی ٹی آئی عمران خان، فیملی اور دیگر رہنمائوں میں تکرار ہوئی۔ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے دوران تکرار بانی، علیمہ خان، بشریٰ بی بی، فیصل چوہدری، بیرسٹر گوہر اور مشال یوسفزئی میں ہوئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنمائوں میں تکرار 24 نومبر کے احتجاج پر ہوئی، اس معاملے پر بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کو بریف کیا۔بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ احتجاج کیلئے پنجاب سے کوئی نہیں نکلا، بریفنگ کے بعد احتجاج سے متعلق کمرہ عدالت میں مباحثہ شروع ہوا۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر مداخلت کی اور کہا کہ پنجاب سے 5 ہزار لوگ گرفتار ہوئے ہیں، پنجاب میں پارٹی پر کریک ڈائون اور گرفتاریوں کا بانی چیئرمین کو بتایا تھا۔اس موقع پر علیمہ خان نے فیصل چوہدری سے سوال کیا کہ بانی کو اخبارات اور دیگرسہولیات کیوں نہیں دی جاتیں؟اس پر فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ میں جو کرسکتا ہوں کررہا ہوں، بتایا جائے کہ سینئر پارٹی عہدیدار عدالت کیوں نہیں جاتے؟ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مانیٹرنگ کمیشن بنایا تھا وہ کہاں ہے؟مشال یوسفزئی نے مانیٹرنگ کمیشن کو روکنے کا الزام فیصل چوہدری پر لگادیا جس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ کمیشن عدالت نے قائم کیا ہے، میں کیسے روک سکتا ہوں۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر خان بولے کچھ فیصلے پارٹی لیڈرشپ پر چھوڑے جائیں، احتجاج اور شہادتوں پر ہر کوئی بات کرے گا تو کنفیوژن ہوگا۔اس ساری تکرار میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب میں فسطائیت کی وجہ سے لوگ خائف ہیں، ڈی چوک احتجاج میں ہمارے 200 لوگ لاپتہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…