بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

امریکی شہری نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالر کے عوض نایاب مارخور شکار کرلیا

datetime 9  دسمبر‬‮  2024 |

پشاور(این این آئی)امریکی شہری نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالر کے عوض نایاب مارخور شکار کرلیا۔ترجمان محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا لطیف الرحمٰن کے مطابق یہ موجودہ سیزن کا پہلا شکار ہے۔ امریکی شکاری رونالڈ جو وائٹن نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالر کی سب سے زیادہ رقم ادا کر کے چترال میں کشمیری مارخور کا شکار کیا۔وائٹن نے اس سلسلے میں اکتوبر میں اجازت نامہ حاصل کیا اور توشی شاشا کنزروینسی میں 49 انچ لمبے سینگوں کے ساتھ 11 سالہ مارخور کا شکار کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک اور ٹرافی ہنٹنگ اسی قیمت پر اسی کنزروینسی میں کی جائے گی، جب کہ تیسری ٹرافی اگلے سال مارچ کے مہینے میں کی جائے گی اور اس کی قیمت 2 لاکھ 31 ہزار ڈالر تک رکھے جانے کا امکان ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ پروگرام، جو 1990ء کی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا، سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فی صد مقامی کمیونٹی میں برابر تقسیم ہوتا ہے، جس سے مارخور کی نسل کو مقامی شکاریوں سے تحفظ کی کوششوں اور علاقائی ترقی دونوں میں مدد ملتی ہے۔ اس پروگرام نے بین الاقوامی شکاریوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرف راغب کیا ہے۔مقامی لوگ غیر قانونی شکار کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جب کہ ٹرافی ہنٹنگ مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے میں اہم ہے۔

مارخور کے شکار کے لئے بولی دینے والے غیر ملکی شکاریوں کو وضع کردہ ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کا پابند کیا جاتا ہے اور شکار بھی عمر رسیدہ مارخور ہی کا کیا جاتا ہے۔ ہنٹنگ کے دوران محکمہ وائلڈ لائف کے نمائندے سمیت مقامی کمیونٹی کے افراد بھی شکاری کے ساتھ ہوتے ہیں۔مارخور، پاکستان کا قومی جانور ہے، جو عام طور پر 8 ہزار سے 11 ہزار فٹ کی اونچائی پر رہتا ہے لیکن سردیوں کے مہینوں میں شکار کے موسم کے ساتھ ساتھ کم اونچائی پر اْتر آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…