ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد ،عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری

datetime 2  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان، بشریٰ بی بی اور بیرسٹر گوہر سمیت 96 دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے،کوہسار پولیس نے مقدمہ نمبر 1 ہزار 32 میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، مراد سعید، عمر ایوب، شیر افضل مروت، فیصل جاوید، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ حاصل کرلیے۔

عدالت کی جانب سے زلفی بخاری، سلمان اکرم راجہ، رؤف حسن،علی زمان، پیر مصور ،میاں خلیق الرحمان، سہیل آفریدی ،شہرام خان ترکئی،بریگیڈیر (ر) مشتاق اللہ ، میجر (ر) راشد ٹیپو کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ایم این اے عبدالطیف ،فاتح الملک ،علی ناصر ،صوبائی وزیر ریاض خان، خالد خورشیدکے بھی وارنٹ جاری کیے گئے۔قبل ازیں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدالتی احکامات کے باوجود وکلا کی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر راولپنڈی پولیس کے سربراہ (سی پی او) ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور ایس ایچ اوتھانہ نیوٹاؤن کو توہین عدالت نوٹس جاری کیے۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سی پی او سمیت تینوں افسران کو (آج) منگل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو عمران خان سے وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم دیا تھا، بانی کے وکلا نے ملاقات کے لیے عدالتی احکامات تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو وصول کرائے تھے تاہم، عدالتی احکام پر عمل نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے رجوع کیا تھا، عدالت نے پولیس افسران کو کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کیلئے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی ا?ئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ‘فرار’ ہوگئے تھے، اس کے بعد علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے متضاد اعداد و شمار پیش کیے تھے۔دوسری جانب وفاقی حکومت، اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے حکام نے کہا تھا کہ مظاہرین نے سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، لاٹھیوں، ڈنڈوں اور برچھیوں سے نشانہ بنایا، متعدد مقامات پر پرتشدد احتجاج میں پولیس کے 170 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…