ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلامی تعلیمات کے مطابق جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا، مولانا طارق جمیل

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)درد دل کے بغیر طب کا پیشہ بے مقصد ہے۔ زیر تربیت نوجوان ڈاکٹروں کو حصول تعلیم کے دوران اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا محور و مرکز بنانا چاہیے۔ یہ بات معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے عزیز فاطمہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں طلبہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر عزیز فاطمہ ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی میاں محمد ادریس اور ٹرسٹیز عبداللہ جاوید اور میاں حمزہ بشیرکے علاوہ پرنسپل عزیز فاطمہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید اور ڈپٹی جنرل منیجر ایڈمن اینڈ ایچ آر آفتاب احمد خاں بھی موجود تھے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا کا حوالہ دیا اور کہا کہ ڈاکٹر اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں اس طرح وہ نہ صرف اس پیشہ کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کرتے ہیں بلکہ آخرت بھی کماتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ پورے انہماک سے تعلیم حاصل کریں تاکہ عملی زندگی میں اللہ تعالیٰ اُن کے ذریعے ہزاروں مریضوں کو شفا عطا کرے۔ عزیز فاطمہ ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی میاں محمد ادریس نے کہا کہ یہ ادارہ ہزاروں طلبہ کو میڈیکل گریجویشن کرانے کے علاوہ مخصوص شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہ اس ادارے کو طب کی تعلیم کیلئے سنٹر آف ایکسی لینس کے طور پر ترقی دینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے جدید طبی آلات اور مشینیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ تعلیم پر توجہ دیں تاکہ وہ خدمت خلق کو اپنی عملی زندگی کا شعار بنا سکیں۔ انہوں نے مولانا طارق جمیل کے پر اثر اور پر مغز خطاب کو بھی سراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…