جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے، جسٹس منصورعلی شاہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

باکو (این این آئی) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ماحول دوست نہ ہونے پر عدالتوں نے کئی منصوبے بند کرنے کا حکم دیا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے۔باکو میں ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور پورا خطہ بری طرح سے ماحولیاتی تبدیلی کے زیر اثر ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے سطح سمندر میں اضافہ اور پانی کی قلت ہورہی ہے، آگ لگنے کیواقعات سمیت کئی دیگر واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی پر پاکستانی عدالتوں نے کئی اہم فیصلے دے رکھے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماحول دوست نہ ہونے پر عدالتوں نے کئی منصوبے بند کرنے کا حکم دیا ہے، ماحولیاتی انصاف کا مطلب ماحولیاتی فنڈز ہیں، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا موجودہ حالات میں ماحولیاتی فنانسنگ ایک بنیادی انسانی حق ہے،خطے کے معاشی حالات ایسے نہیں کہ ازخود ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ غربت کے ساتھ سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی ہیں، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور فوڈ سیکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے،ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے،دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو فنڈز دینا ہوں گے۔ان

ہوں نے کہا کہ فنڈ کیلئے ترقی پذیر ممالک گرین بانڈز اور انشورنس سمیت دیگر اقدامات کرسکتے ہیں،غیرملکی قرضوں کو بطور ماحولیاتی سرمایہ کاری بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،ماحولیاتی تبدیلی کے نام پر جو بھی پیسہ آئے وہ عوام پر خرچ ہونا لازمی ہے،عدالتوں کو فنڈز کی شفافیت سے خرچ ہونے پر نظر رکھنی چاہیے، دنیا بھر کے ججز کو سوچنا ہوگا کہ گلوبل فنڈنگ کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں قانون سازی ماحولیاتی سائنس پر ہوگی، ہماری عدالتیں ماحولیاتی سائنس سے مکمل نابلد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…