جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے، جسٹس منصورعلی شاہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

باکو (این این آئی) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ماحول دوست نہ ہونے پر عدالتوں نے کئی منصوبے بند کرنے کا حکم دیا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے۔باکو میں ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور پورا خطہ بری طرح سے ماحولیاتی تبدیلی کے زیر اثر ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے سطح سمندر میں اضافہ اور پانی کی قلت ہورہی ہے، آگ لگنے کیواقعات سمیت کئی دیگر واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی پر پاکستانی عدالتوں نے کئی اہم فیصلے دے رکھے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماحول دوست نہ ہونے پر عدالتوں نے کئی منصوبے بند کرنے کا حکم دیا ہے، ماحولیاتی انصاف کا مطلب ماحولیاتی فنڈز ہیں، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا موجودہ حالات میں ماحولیاتی فنانسنگ ایک بنیادی انسانی حق ہے،خطے کے معاشی حالات ایسے نہیں کہ ازخود ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ غربت کے ساتھ سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی ہیں، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور فوڈ سیکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے،ماحولیاتی تبدیلی کیلئے عالمی فنڈز ویسے ہی کم،جو ہیں وہ بھی پاکستان تک نہیں پہنچ رہے،دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو فنڈز دینا ہوں گے۔ان

ہوں نے کہا کہ فنڈ کیلئے ترقی پذیر ممالک گرین بانڈز اور انشورنس سمیت دیگر اقدامات کرسکتے ہیں،غیرملکی قرضوں کو بطور ماحولیاتی سرمایہ کاری بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،ماحولیاتی تبدیلی کے نام پر جو بھی پیسہ آئے وہ عوام پر خرچ ہونا لازمی ہے،عدالتوں کو فنڈز کی شفافیت سے خرچ ہونے پر نظر رکھنی چاہیے، دنیا بھر کے ججز کو سوچنا ہوگا کہ گلوبل فنڈنگ کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں قانون سازی ماحولیاتی سائنس پر ہوگی، ہماری عدالتیں ماحولیاتی سائنس سے مکمل نابلد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…