جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر راولپنڈی میں احتجاج، 250 طلبہ گرفتار

datetime 17  اکتوبر‬‮  2024 |

راولپنڈی(این این آئی)لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر راولپنڈی میں احتجاج کرنے والے کم ازکم 250 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ پولیس نے منتشر کرنے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے مختلف کالجز کیمپس کے باہر طلبہ کا احتجاج جمعرات کو بھی جاری رہا ، کمرشل مارکیٹ، سکستھ روڈ، مورگاہ اور پشاور کیمپس کے باہر یونیفارم پہنے طلبہ نے کیمپسز پر پتھراؤ کیا اور ان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔پشاور روڈ کیمپس پر طلبہ نے گیٹ اور شیشے توڑ دیئے اور مورگاہ کیمپس کے باہر طلبہ نے پتھراؤ کیا، جبکہ احتجاج کے باعث ایوب پارک چوک مکمل بلاک ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر طلب کر لی گئی، مورگاہ پر بھی پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہو گیا۔

راولپنڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشن حافظ کامران اصغر نے بتایا کہ پْرتشدد احتجاج کرنے والے تقریباً 150 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، مزید کہنا تھا کہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ تمام زاویوں سے احتجاج کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، شہر میں مختلف کالجز کے باہر سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام بلاک سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی نے کہاکہ ہم طلبہ کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے، احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم احتجاج کی آڑ پر اگر کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا، اور توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کرے گا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔بعد ازاں ترجمان پولیس انسپکٹر سجاد الحسن نے بتایا کہ ویڈیوز سے شناخت کے بعد 100 مزید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد کل تعداد 250 ہو گئی ہے۔

ترجمان پولیس نے بتایا کہ گرفتار افراد میں غیر طلبہ عناصر بھی شامل ہیں، ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق غیر طلبہ عناصر نے مذموم مقاصد کے لیے احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ کی، مزید کہنا تھا کہ شہر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…