منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد،ڈی چوک پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں، شہر میں فوج کا گشت

datetime 5  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈی چوک پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں شروع کردیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کرنے پر فیض آباد کے قریب پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

صادق آباد پولیس نے انسپکٹر افتخار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا، کارکنان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور سولہ ایم پی او اقدام قتل و دیگردفعات کے تحت درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا، ملزمان کے پتھراؤ کے باعث موبائل وین کی اسکرین ٹوٹ گئی، قریبی دکانوں کو نقصان پہنچا۔اسلام آباد پولیس نے سوہان،کری روڈ، اقبال ٹاؤن سے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جبکہ مری روڈ پر مظاہرہ کرنے والے کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا ،ڈنڈا بردار اور غلیلوں سے لیس بڑی تعداد میں کارکن بھی قافلے کا حصہ ہیں ، کرینیں، شاول، فائرانجن اور ایمبولینسیں بھی قافلے میں شامل ہیں۔اسلام آباد کے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہر پابندیوں کی زد میں رہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرو بس سروس بھی معطل رہی جس سے شہری شدید مشکلات کا رہاڈی چوک پر احتجاج کی کال پر وفاقی دارالحکومت دوسرے روز بھی مکمل بند رہا، جگہ جگہ کنٹینرز اور خاردار تاروں کی باڑ اور دیگر رکاوٹیں قائم رہیں اور موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی شدید متاثر ہوئی۔مظاہرین کو شہراقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے اٹک خورد میں شاہراہ بھی مسلسل بند رہی، مسافر اور مال بردارگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں ،سڑک کی بندش سے ٹرکوں میں موجود سبزی اور پھل خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد کی جانب آنے والے مسافروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، خواتین اور بچوں سمیت مسافروں نے رات سڑک پرگزاری، لاہور سے باجوڑ میت لے جانے والی ایمبولینس بھی پھنس گئی۔دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے ، فوج کے دستوں کے علاوہ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی تعینات ہیں، دارالحکومت میں پاک فوج کے دستے گشت کر تے رہے ،۔

اسلام آباد میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے فوج نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، فوجی جوان ڈی چوک پرپہنچے، فوج 17 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔فوج کو صورتحال کے مطابق آتشیں اسلحے کے استعمال سمیت انتہائی اقدامات کی اجازت دی گئی ہے اور قانون شکن عناصر کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔دوسرے دن بھی چونگی نمبر 26 پر تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہوئیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی جاتی رہی ادھر ٹیکسلا ٹھٹہ خلیل کے مقام پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر جوابی پتھراؤ اور شیل اٹھا کر واپس پھینکنے کا سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔ پی ٹی آئی قافلے کے 8 سو کارکن پنڈی کی حدود میں داخل ہوئے ادھر26 نمبر چنگی پر کارکنوں نے ایک کرین اور ایک موٹرسائیکل کو آگ لگا دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…