پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

حیرت ہے ان کے پاس کمروں کی چابیاں کہاں سے آگئیں، عمر ایوب

datetime 12  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی پارلیمنٹ ہاؤس سے گرفتاری سے متعلق کہا ہے کہ حیرت ہے ان کے پاس کمروں کی چابیاں کہاں سے آگئیں۔پروڈکشن آرڈر پر پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان اسمبلی نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد گرفتار اراکین نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کو گرفتاریوں کی جرات کیسے ہوئی، ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرکے مکے مارے گئے، کہا گیا ہم کسی قانون کو نہیں مانتے، آئیں اس ایوان کو بند کرکے تالا لگا دیتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جس کمرے میں شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی بیٹھے ہیں ان کو دھکے مار کر باہر نکالا گیا، آپ کے بغیر کس نے اس قسم کی اجازت دی، سارجنٹ ایٹ آرمز یا کسی ملازم کو معطل کرنے سے بات ختم نہیں ہوگی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ میں نے پہلے بھی جو کرنا تھا کیا اور آگے بھی کروں گا، جس پر عمر ایوب نے کہا کہ جناب اسپیکر آج اس ایوان کے تقدس کی بات ہے، یہ صرف ملازمین کی معطلی کی بات نہیں ہے، پاکستان میں اس وقت جمہوریت نہیں، ہماری تقریروں پر مکمل سنسرشپ ہے، میں نام لوں گا اور بار بار لوں گا، انٹیلی جنس ایجنسیاں یہاں کیوں آئیں؟عمر ایوب نے کہا کہ اسپیشل کمیٹی تعین کرے کہ آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے لوگ کس کی اجازت سے اس دن ایوان میں داخل ہوئے، یہ تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ آرڈر کس نے دیا کہ ایجنسیاں پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہوں، جناب اسپیکر، کس نے ان کو پارلیمنٹ کی چابیاں دیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…