پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کارساز حادثہ کیس، ملزمہ نتاشہ اور جاں بحق افراد کے لواحقین میں معاملات طے پاگئے

datetime 6  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں کارساز حادثہ کیس کی مرکزی ملزمہ نتاشہ دانش اور جاں بحق ہونے والے دو افراد کے لواحقین درمیان معاملات طے پا گئے۔ذرائع نے بتایا کہ نتاشہ کے اہلخانہ نے آمنہ کے اہلخانہ کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کے طور پر رقم ادا کر دی، رقم کی ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے کی گئی جبکہ آمنہ کے کسی رشتے دار کو کمپنی میں ملازمت بھی دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ بھی ملزمہ کی صلح ہو گئی ہے اور زخمیوں کو الگ سے رقم ادا کر دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دیت کا معاہدہ شرعی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ورثا کی جانب سے ملزمہ کی درخواست ضمانت پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرایا جائے گا۔نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ جاں بحق ہونے والے عمران عارف کی اہلیہ کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف کے بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی کی جانب سے بھی نو اوبجیکشن سرٹیفیکٹ جمع کرایے جائیں گے۔

جاں بحق افراد عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے حلف نامہ بھی تیار کروا لیا گیا۔طے پائے گئے حلف نامے میں متاثرہ خاندان کے مطابق ہمارے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ہم نے ملزمہ کو معاف کر دیا ہے۔حلف نامے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا نے کہاکہ ہم نے اللہ کے نام پر معاف کیا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔حلف نامے میں کہا گیاہے کہ ملزمہ کو ضمانت دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جو حادثہ ہوا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔حلف نامے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا نے کہاکہ ہم نے بغیر کسی دبائو کہ یہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ دیا ہے، ہم نے حلف نامے میں جو کچھ کہا ہے بالکل درست کہا ہے۔

یاد رہے کہ 19 اگست کو کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف باپ اور بیٹی تھے۔جاں بحق شخص عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔آمنہ عارف والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر سے گھر جا رہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…