پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کارساز حادثہ کیس، ملزمہ نتاشہ اور جاں بحق افراد کے لواحقین میں معاملات طے پاگئے

datetime 6  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)کراچی میں کارساز حادثہ کیس کی مرکزی ملزمہ نتاشہ دانش اور جاں بحق ہونے والے دو افراد کے لواحقین درمیان معاملات طے پا گئے۔ذرائع نے بتایا کہ نتاشہ کے اہلخانہ نے آمنہ کے اہلخانہ کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کے طور پر رقم ادا کر دی، رقم کی ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے کی گئی جبکہ آمنہ کے کسی رشتے دار کو کمپنی میں ملازمت بھی دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ بھی ملزمہ کی صلح ہو گئی ہے اور زخمیوں کو الگ سے رقم ادا کر دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دیت کا معاہدہ شرعی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ورثا کی جانب سے ملزمہ کی درخواست ضمانت پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جمع کرایا جائے گا۔نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ جاں بحق ہونے والے عمران عارف کی اہلیہ کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف کے بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی کی جانب سے بھی نو اوبجیکشن سرٹیفیکٹ جمع کرایے جائیں گے۔

جاں بحق افراد عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے حلف نامہ بھی تیار کروا لیا گیا۔طے پائے گئے حلف نامے میں متاثرہ خاندان کے مطابق ہمارے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں ہم نے ملزمہ کو معاف کر دیا ہے۔حلف نامے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا نے کہاکہ ہم نے اللہ کے نام پر معاف کیا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔حلف نامے میں کہا گیاہے کہ ملزمہ کو ضمانت دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جو حادثہ ہوا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔حلف نامے میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا نے کہاکہ ہم نے بغیر کسی دبائو کہ یہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ دیا ہے، ہم نے حلف نامے میں جو کچھ کہا ہے بالکل درست کہا ہے۔

یاد رہے کہ 19 اگست کو کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف باپ اور بیٹی تھے۔جاں بحق شخص عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔آمنہ عارف والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر سے گھر جا رہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…