پیر‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2024 

پی ٹی آئی کا چیف جسٹس پر اعتراض …کیا ہم اپنی بے عزتی کیلئے یہاں بیٹھے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی

datetime 4  جولائی  2024
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آبا د(این این آئی)سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نیاز اللہ نیازی نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی پر اعتراض اٹھا دیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم اپنی بے عزتی کے لیے یہاں بیٹھے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ بینچ میں جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھا دیا، وکیل پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے۔وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل کا اعتراض ہے کہ چیف جسٹس بینچ میں نہ بیٹھیں، یہ کیس کسی دوسرے بینچ کو بھیجا جائے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے اب آپ تشریف رکھیں، اس وقت الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا سے سے استفسار کیا کہ ہم نے آپ سے پہلی سماعت پر پوچھ لیا تھا کہ کوئی اعتراض ہے ؟ آپ نے جواب دیا تھاکہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، کیوں نا نیاز اللہ نیازی کا کیس پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیں؟ سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اعتراض نہیں کیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم اپنی بے عزتی کیلئے یہاں بیٹھے ہیں؟ بینچ میں نے تشکیل نہیں دیا، کمیٹی نے بینچ تشکیل دیا ہے۔چیف جسٹس اور بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھانے پر عدالت برہم ہوگئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بہت ہوگیا ،معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں گے، پہلے روز اعتراض اٹھانے والے کو فریق بنتے وقت کسی پر اعتراض نہیں تھا، بہت عدالتی اسیکنڈالائزیشن ہوگئی، ہم ایسے رویے پر کارروائی کا کہیں گے، پہلے روز 2 رکنی بینچ میں میں شامل تھا، تب اعتراض نہیں کیا گیا، اعتراض تھا تو پہلے ہی دن اٹھانا چاہیے تھا، آکر زبانی بینچ پر اعتراض کردیا۔

انہوںنے کہاکہ بینچ پر اعتراض اٹھاکر ہیڈ لائنز بنوانا چاہتے ہیں، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل نیاز اللہ نیازی سے دریافت کیا کہ آپ بتائیں کیا اعتراض ہے؟ وجہ بتائیں کہ آپ کو کیوں اعتراض ہے، پہلے دن آپ کو اعتراض نہیں تھا؟بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جب دو ممبر بینچ تھا تب کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدلیہ کی تذلیل کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، ہم دیکھیں گے کہ ان کے خلاف ایکشن لینا ہے کہ نہیں، یہ بس کیس خراب کرنا چاہتے ہیں، نیاز اللہ نیازی کو جزوی ریلیف بھی ملا اس کے باجود اعتراض کر رہے ہیں۔بعد ازاں الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل کا آغاز کر دیا۔وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی جن کے وکیل ہیں انہوں نے فریق بننے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کیا تھا، عدالت نے ان کی فریق بننے کی استدعا منظور کر لی تھی، عدالت نے گزشتہ حکم نامہ میں دیگر صوبوں میں ٹربیونلز کی تشکیل کا ریکارڈ مانگا تھا۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا 15 فروری کا خط جمع کرائیں وہ بہت ضروری ہے، آپ نے پینل مانگا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر ججز کی فہرست درکار تھی تو ویب سائٹ سے لے لیتے؟ کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟ کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ آپ ججز میں سے خود منتخب نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ چیف جسٹس کو ہی علم ہوتا ہے کون کون سے جج دستیاب ہیں، ہو سکتاہے کچھ جج بیرون ملک ہوں، کچھ ذاتی وجوہات پر ٹربیونل میں نہ آنا چاہتے ہوں، الیکشن کمیشن کو کسی جج پر اعتراض تھا تو وجہ بتا سکتا تھا، وجہ بتائی جا سکتی تھی کہ فلاں جج کا بھائی الیکشن لڑ چکا اس لیے یہ ٹربیونل میں نہ ہوں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا، کیا اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں بھی پینل مانگے گئے تھے؟ جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کر سکتا تھا، الیکشن کمیشن اب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مشاورت کیوں نہیں کر لیتا؟ بتائیں ابھی مشاورت میں کیا رکاوٹ ہے؟اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہم نے ایک خط لکھا ہے ملاقات کیلئے رجسٹرار ہائی کورٹ کو، ابھی جواب نہیں آیا، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے بتایا کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر بیٹھ کر مسئلہ حل کر سکتے ہیں، اس معاملے پر وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟بعد ازاں جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر ترمیم منظور ہوجائے تو بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت لازمی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دریافت کیا کہ کیا الیکشن کمیشن چیف جسٹس ہائی کورٹ سے ملاقات پر تیار ہیں یا نہیں؟ جسٹس جمال مدوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کہا جاتا کہ کن علاقوں کے لیے ججز درکار ہیں وہ فراہم کر دیتے، ملتان کیلئے جج درکار ہے وہ اس رجسٹری میں پہلے ہی جج موجود ہوگا،

کیا لازمی ہے کہ ملتان کے لیے لاہور سے جج جائے جبکہ وہاں پہلے ہی جج موجود ہے؟ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان کی بات ہوتی تھی اب کیا ججز بھی اچھے برے ہوں گے؟وکیل نے جواب دیا کہ تمام ججز اچھے ہیں سب کا احترام کرتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئینی ادارے آپس میں لڑیں تو ملک تباہ ہوتا ہے، مزید استفسار کیا کہ ججز تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کب ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاؤں گا۔



کالم



طیب کے پاس کیا آپشن تھا؟


طیب کا تعلق لانگ راج گائوں سے تھا‘ اسے کنڈیارو…

ایک اندر دوسرا باہر

میں نے کل خبروں کے ڈھیر میں چار سطروں کی ایک چھوٹی…

اللہ معاف کرے

کل رات میرے ایک دوست نے مجھے ویڈیو بھجوائی‘پہلی…

وہ جس نے انگلیوں کوآنکھیں بنا لیا

وہ بچپن میں حادثے کا شکار ہوگیا‘جان بچ گئی مگر…

مبارک ہو

مغل بادشاہ ازبکستان کے علاقے فرغانہ سے ہندوستان…

میڈم بڑا مینڈک پکڑیں

برین ٹریسی دنیا کے پانچ بڑے موٹی ویشنل سپیکر…

کام یاب اور کم کام یاب

’’انسان ناکام ہونے پر شرمندہ نہیں ہوتے ٹرائی…

سیاست کی سنگ دلی ‘تاریخ کی بے رحمی

میجر طارق رحیم ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی تھے‘…

اگر کویت مجبور ہے

کویت عرب دنیا کا چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ صرف 17 ہزار…

توجہ کا معجزہ

ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ’’میرے پاس کوئی…

صدقہ‘ عاجزی اور رحم

عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر پاک و ہند کے نامور…