ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر جب بھارت کو دے دیا ہے تو اب یہ تنازع ختم ہونا چاہیے، مولانا فضل الرحمان

datetime 25  مئی‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ2018سے زیادہ 2024کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے،پھر جبری طور پر ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ حکومت سازی کی گئی ، اب بھی اگر دیکھا جائے تو اقلیتی نمائندگی حکومت کر رہی ہے ۔ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی کا نمبرز پورا کرنے کے علاوہ حکومت میں کوئی رول نہیں ہے، یہ مینیجنگ اسٹیبلشمنٹ نے کی ہے اور ہم نے اس کے خلاف میدان عمل میں نکلے ہیں اور ملک بھر میں تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یکم جون کو مظفر گڑھ پنجاب میں عوامی جلسہ عام ہوگا ،ہم نے پوری زندگی اس جمہوری نظام کے ساتھ گذاری ہے اسی تجربہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس ملک سے لے کر امریکہ تک جمہوریت فقط دہوکہ کا نام ہے۔

انہوں نے کہاکہ2018میں بھی ہم نے اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف میدان عمل میں تھے، اب بھی میدان عمل میں ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ نے بھی ٹھان لی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی مرضی کے نتائج مرتب کریں گے، چاہے پھر عوام اس کو جس نظر سے بھی دیکھے ، لیکن ہم تسلیم نہیں کرتے ، ہم غلام بن کر زندگی نہیں گذار سکتے،ملک چھوڑنے کی نوبت آئی تو ملک چھوڑ دیں گے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی غلامی منظور نہیں۔

انہوں نے افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہ ہم نے افغانستان میں جاکر پاکستان کے لئے بہتر تعلقات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ، افغان حکمران بھی پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار تھے ، لیکن الیکشن میں ہماری قوت کو منصوبہ بندی کے ساتھ توڑا گیا ، جو جماعت پاکستان کے لئے خدمت کرے اسی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی ، اسی طرح دیگر پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، اس خطے کو متحد ہونا چاہئے اور ایشیا بلاک بننا چاہئے ، لیکن اس میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے، انڈیا کے ساتھ ہمارا جھگڑا کشمیر پر تھا ، اب کشمیر جب ان کو دے دیا تو یہ تنازعہ اب ختم ہونا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…