ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پی ٹی آئی اتنا کہہ دیں کہ ہم سے رابطہ کریں ہم خود ان کے پاس چلے جائیں گے، رانا ثناء اللہ

datetime 30  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا تے ہوئے کہاہے کہ ہم ملک کی خاطر پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں، وہ صرف اتنا کہہ دیں کہ ہم سے رابطہ کریں ہم خود ان کے پاس چلے جائیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ سیاستدان اکٹھے ہوکر ملک کو سنبھالیں،ہم اس وقت بھی بات چیت کیلئے تیار تھے جب پی ٹی آئی ہمیں جیلوں میں ڈال رہی تھی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاستدان پہلے بھی اور آج بھی معاملے کو کسی سمت لگنے نہیں دے رہے، جب تک ہم مل کر نہیں بیٹھیں گے یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں سول بالادستی چاہتے ہیں، کسی ادارے سے محاذ آرائی ہرگز ہمارا مقصد نہیں، اگر اسٹیبلشمنٹ اپنے کردار میں واپس چلی جاتی ہے تو پھر ہمیں مزاحمتی بیانیہ اپنانے کی کیا ضرورت ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم بنانا شہباز شریف کی صوابدید تھی، یقینا یہ فیصلہ نواز شریف کی مشاورت سے ہوا ہوگا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ شہباز شریف کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے قبل نواز شریف سے مشاورت کرتے ہیں۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جلد جنرل کونسل کا اجلاس بلا رہے ہیں اور امید ہے کہ قرارداد کے ذریعے ہی نواز شریف پارٹی صدر بن جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ احسن اقبال چاہتے ہیں کہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سعد رفیق ہوں کیونکہ وہ پہلے بھی یہ ذمہ داری بخوبی نبھا چکے ہیں۔ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایک پراجیکٹ پر دس سال کام کیا اور پھر وہی ان کے گلے پڑ گیا،اب اسے ختم کرنے کا معاملہ چل رہا ہے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے آج جو باتیں کی ہیں یہ 2013اور 2018کی اسمبلی کے حوالے سے بھی کی جاتی رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…