جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

موٹر وے پولیس اہل کار کو ٹکر مارنے والی خاتون جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ

datetime 25  اپریل‬‮  2024 |

راولپنڈی(این این آئی)موٹر وے پولیس اہلکار کو کار سے روند کر فرار ہونے والی خاتون کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔جمعرات کوموٹر وے پولیس کے اہل کار کو ٹکر مار کر فرار ہونے والی خاتون فرح کو پولیس کی جانب سے سول جج ڈاکٹر ممتاز ہنجرا کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے گرفتار ملزمہ فرح کے 5روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ موٹر وے پر گاڑی تیز رفتاری سے گزارنے کا واقعہ یکم جنوری کا ہے۔

وکیل صفائی نے موقف دیا کہ پولیس113دن سے سوئی ہوئی تھی،سوشل میڈیا پر 112دن بعد وڈیو وائرل ہوئی تو پولیس جاگ گئی، کوئی زخمی نہیں ہوا، خاتون کا آئینی طور پر جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جاسکتا،یہ مقدمہ ڈسچارج کا کیس ہے،جسمانی ریمانڈ کی درخواست خارج کی جائے۔عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ تفتیشی افسر جیل میں خاتون اہل کار اور جیل افسر کی موجودگی میں ملزمہ سے تفتیش کر سکتا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اقدام قتل کی دفعہ 324کیسے لگائی؟جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ملزمہ نے دانستہ گاڑی اہل کار پر قتل نیت سے چڑھائی،یہ گھنائونا جرم ہے، اقدام قتل بنتا ہے، ملزمہ سے گاڑی کے کاغذات ریکور کرنے ہیں، آواز ٹیسٹ کرانا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ کیلئے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے گرفتار ملزمہ فرح کو 14روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔پیشی کے موقع پر ملزمہ فرح کو پولیس کی بھاری نفری میں عدالت لایا گیا تھا۔واضح رہے کہ ملزمہ فرح موٹر وے پولیس اہل کار کو کار سے ٹکر مارتے ہوئے فرار ہو گئی تھی اورسوشل میڈیا پر ساڑھے 3ماہ بعد وڈیو وائرل ہونے پر خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ملزمہ کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، مزاحمت، سرکاری اہل کار کو ٹکر مارنے اور زخمی کرنے کی دفعات کے تحت پیٹرولنگ آفیسر محمد صابر کی درخواست پر 2جنوری 2024 کو تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…