جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں کیا کیا غیر قانونی ہورہا ہے ہمیں بھی سب پتا ہے،چیف جسٹس

datetime 22  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں کیا کیا غیر قانونی ہورہا ہے ہمیں بھی سب پتا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چوہدری خلیق الزماں روڈ کی کمرشلائزیشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے بلڈر کے وکیل سے سوال کیا کہ پلاٹ کی کمرشلائزیشن فیس کس کو اد اکی ہے؟ اس پر بلڈر کے وکیل نے جواب دیا پلاٹ کی کمرشلائزیشن فیس ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو دی ہے۔عدالت نے سوال کیا کس کو پیسے کھلائے ہیں رسیدیں کہاں ہیں؟ بلڈر کے وکیل نے کہا کہ کے ایم سی اور دیگرکو پیسے دیے ہیں، رسیدیں پیش کرنے کی مہلت دی جائے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بلڈر نے 22 منزلہ عمارت بنادی ہے مگر رسیدیں نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں کیا کیا غیر قانونی ہورہا ہے ہمیں بھی سب پتا ہے۔اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا چوہدری خلیق الزماں روڈ کمرشلائز نہیں ہوسکتا، عدالت نے درخواست گزار کو بلڈنگ کی کمرشلائزیشن کی مد میں ادائیگی کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ،کے ایم سی اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چوہدری خلیق الزماں روڈ کی کمرشلائزیشن کا ریکارڈ طلب کرلیا جب کہ عدالت نے فریقین کو 25 اپریل کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔دوسری جانب کلفٹن میں سرکاری پلاٹ کی ملکیت کے تنازع کے کیس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالتی حکم پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے۔

اس دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میئر کراچی سے مخاطب ہوکر کہا آپ کو پتا ہے آپ کو کیوں بلایا ہے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے جواب دیا مجھے میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ بلایا گیا ہے، فروغ نسیم سے پوچھ لیتا ہوں کیا کیس ہے۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ کے مخالف فریق کے وکیل ہیں آپ کا خیال نہیں کریں گے۔

میئر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے دائر کیا تھا اب زمینوں سے متعلق یہ محکمہ کے ڈی اے کے پاس ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا ہمارا سارا دن خراب ہوا اور آپ کا بھی وقت ضائع ہوا اب بتارہے ہیں یہ کے ایم سی کا مسئلہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے ڈی جی کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے مخاطب ہوکر کہا آپ کے وکیل کیوں موجود نہیں ؟ کیس کیوں نہیں چلاتے ؟ اس پر ڈی جی کے ڈی اے نے جامع رپورٹ پیش کرنے کیلئے مہلت طلب کی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 اپریل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…