ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

جیل میں 7 ہزار قیدیوں اور عمران کیلئے الگ الگ سی سی ٹی وی سسٹم نصب ہے، مزید تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالا جیل میں میسر سہولتوں کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جس سکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے وہاں کم از کم 35 افراد رہ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے کل 7 سیل مختص ہیں جن میں سے 5 چہل قدمی کیلیے ہیں جبکہ باقی2 سیل بانی پی ٹی آئی کے استعمال میں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے سیل تک رسائی بہت محدود ہے، کوئی بھی شخص بغیر اجازت وہاں نہیں پہنچ سکتا، بانی پی ٹی آئی کے وارڈ کی حفاظت کے لیے پیشہ ور تربیت یافتہ افراد مامور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اڈیالا جیل میں ہر 10 قیدیوں پر ایک اہلکار تعینات ہے تاہم عمران خان کے لیے 15 اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 2 سکیورٹی افسران ہیں، 3 اہلکار بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی کے لیے لگائے گیے سی سی ٹی وی کیمروں پر مامور ہیں، جیل میں 7 ہزار قیدیوں کے لیے الگ اور بانی پی ٹی آئی کے لییالگ سی سی ٹی وی کیمرہ سسٹم نصب ہے، ان کی سکیورٹی پر ماہانہ 12 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کے کھانے کے لیے خصوصی قواعد و ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں، ان کو صحت افزا کھانا مہیا کیا جاتا ہے جو ایک خصوصی کچن میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں تیار ہوتا ہے، کھانا فراہم کرنے سے قبل ایک میڈیکل افسر یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اس کا معائنہ کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیل کے میڈیکل افسر کے علاوہ، راولپنڈی کے ایک ہسپتال کے 6 میڈیکل افسران بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے کیلئے تعینات ہیں ، راولپنڈی کے ایک دوسرے ہسپتال کے اسپیشلسٹ کی ٹیم جیل کا ہفتہ وار دورہ کرتی ہے جو ضرورت پڑنے پر بانی پی ٹی آئی کا چیک اَپ کرتی ہے، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لیے مشین اور دیگر اشیابھی فراہم کی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آنے والوں کے لیے قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں، ان کے جیل ٹرائل کے دوران ایک جامع سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے، اڈیالا جیل کی حفاظت کے لیے جیل پولیس، رینجرز، ضلعی پولیس فرائض ادا کررہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیل اور اردگرد کے علاقے کلیئر رکھنے کے لیے سرچ آپریشن کیے جاتے ہیں، جیل میں بانی پی ٹی آئی اور تمام قیدیوں کی سکیورٹی کے لیے فرضی مشقیں بھی کی گئیں جبکہ جیل کی جانب جانے والے روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی گشت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…