جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سنہرے مستقبل ،بہتر روزگار کی خاطر اٹلی جانے والے سات پاکستانی البانیہ میں کار حادثے میں جاں بحق

datetime 6  اپریل‬‮  2024 |

حافظ آباد( این این آئی)سنہرے مستقبل اور بہتر روزگار کی خاطر اٹلی جانے والے سات پاکستانی البانیہ میں کار حادثہ میں جاں بحق ہو گئے ، جاں بحق ہونے والوں میں 22سالہ رائے شرجیل کا تعلق حافظ آباد سے تھا،حادثہ میں البانوی کار ڈرائیو بھی جاں بحق ہو گیا۔جاں بحق ہونے والے شرجیل کے اہل خانہ بیٹے کی ناگہانی وفات پر غم سے نڈھال ہو گئے۔ والدین نے حکومت سے بیٹے کی میت وطن واپس لانے کے لیے حکومت سے اپیل کر دی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ آباد کے گائوں ساگر کھرل کے رہائشی رائے شفقت علی کا 22سالہ بیٹا رائے شرجیل دس ماہ قبل یونان گیا جہاں وہ اپنے دیگر سات پاکستانیوں کے ساتھ غیر قانونی طریقہ سے اٹلی جانے کے لیے نکلا ۔ رائے شرجیل اور اس کے ساتھیوں نے البانیہ کا بارڈر کراس کرنے کے لیے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی۔ساتوں پاکستانی گاڑی میں سوار ہو کر جا رہے تھے کہ البانیہ کے دارلخلافہ تیرانہ کے قریب چیک پوسٹ پر پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا لیکن البانوی ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی جو تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو کر دریا میں جا گری جس کے نتیجہ میں البانوی ڈرائیو اور رائے شرجیل سمیت ساتوں پاکستانی جاں بحق ہو گئے۔

رائے شفقت کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا پاکستان میں بیروزگاری کی وجہ سے پریشان تھا اس لیے وہ بیرون ملک گیااور وہ گزشتہ دس ماہ سے یونان میں مقیم تھاجہاں سے وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ البانیہ کے راستے اٹلی جا رہا تھا کہ راستے میں پولیس نے انہیں روکا لیکن البانوی ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی اور تیز رفتاری کے باعث ا ن کی گاڑی دریا میں جا گری جس میں البانوی کار ڈرائیور اور ساتوں پاکستانی موقع پر جا ں بحق ہو گئے۔

انہوں نے بتا یا کہ البانیہ کی پولیس نے تمام لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں مبتلا شرجیل کے والد اور دیگر رشتہ داروں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ متوفی رائے شرجیل کی میت پاکستان لانے کے لیے انتظام کیا جائے اور اس سلسلہ میں ان کی مدد کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…