منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے میڈیا پر اپنے فیصلے کی غلط تشریح پر وضاحتی اعلامیہ جاری کردیا

datetime 22  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے میڈیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح پر وضاحتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں، ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم (مسلمان کی تعریف) سے انحراف کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ ”مذہب کے خلاف جرائم”پر مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنیکا کہا گیا، فیصلے میں قرار دیا کہ ایف آئی آر کو جوں کا توں درست تسلیم کیا جائے تو دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا، مذہب کے خلاف جرائم سے متعلق مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ختم کرنے کا تاثر بالکل غلط ہے۔اعلامیہ کے مطابق ایف آر آئی میں الزامات تسلیم بھی کرلیں تو کیس میں فوجداری ترمیمی ایکٹ 1932 کی دفعہ 5 لگتی ہے، فوجداری ترمیمی ایکٹ کے تحت ممنوعہ کتاب کی نشرواشاعت پر 6 ماہ قید دی جاسکتی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار/ملزم پہلے ہی ایک سال سے زائد قیدکاٹ چکا، ایک سال سزا کے بعد اسلامی احکام، آئینی دفعات اور قانون وانصاف کے تحت ضمانت پر رہائی کا حکم دیا، افسوس ایسے مقدمات میں جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں، اسلامی احکام بھلا دیے جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ فیصلے میں قرآن مجید کی آیات اسی سیاق و سباق میں دی گئی ہیں، فیصلے میں غیرمسلم کی مذہبی آزادی سے متعلق جو آئینی دفعات نقل کی گئیں ان میں یہ قید موجود ہے، آئین کے مطابق یہ حقوق ”قانون،امن عامہ اور اخلاق کے تابع”ہی دستیاب ہوں گے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ آرٹیکل20 کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی، اس پر عمل اور اسے بیان کرنیکا حق ہوگا، آرٹیکل 20 کے مطابق ہر مذہبی گروہ، فرقے کو اپنے مذہبی ادارے بنانے، دیکھ بھال اور انتظام کا حق ہوگا، اس نوعیت کے مقدمے ظہیرالدین بنام ریاست میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ تفصیلی فیصلہ دے چکا ہے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کیفیصلے سے موجودہ فیصلے میں کوئی انحراف نہیں کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس اپنے فیصلوں میں قرآنی آیات اور احادیث شامل کرتے ہیں، چیف جسٹس اپنے فیصلوں میں خلفائے راشدین کے فیصلوں اور فقہائے کرام کی آراء شامل کرتے ہیں، چیف جسٹس کوشش کرتے ہیں کہ قوانین کی ایسی تعبیر اختیار کی جائے جو احکام اسلام کے مطابق ہو، یہی پاکستان کے آئین کے آرٹیکل دو،31، 227 اور قانون نفاذ شریعت 1991 کی دفعہ 4 کا تقاضہ ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فیصلے میں کسی اسلامی اصول کی غلطی ہوئی تو اصلاح اہل علم کی ذمہ داری ہے،کوئی سمجھتا ہے آئینی وقانونی شق کی فیصلے میں غلطی ہوئی تو اصلاح اہل علم کی ذمہ داری ہے، تصحیح اور اصلاح کے لیے آئینی اور قانونی راستے موجود ہیں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظر ثانی سے نہ پہلے روکا نہ اب روکیں گے، عدالتی فیصلوں پر مناسب اسلوب میں تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق نظرثانی کا آئینی راستہ اختیار کیے بغیر تنقیدکے نام یا آڑ میں عدلیہ اور ججز کے خلاف منظم مہم افسوسناک ہے، منظم مہم آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کے حق کی حدود کی خلاف ورزی ہے، منظم مہم سے پاکستان کے اس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس ستون پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…