اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

سویڈن کے بعدڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی پاکستان کا شدید ردعمل

datetime 28  جنوری‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے انتہائی احمقانہ اور جارحانہ فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام فوبیا کے شکار افراد کی جانب سے چند روز قبل سویڈن میں بھی اسی طرح کی حرکت کی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ متعدد بار اس طرح کے نفرت انگیز اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کیلئے آزادی اظہار کے حق کا غلط استعمال کی جارہا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی اس قانونی فریم ورک پر بھی سوالیہ نشان ہے، جس کے پیچھے مذہبی منافرت پھیلانے والے چھپتے ہیں، جب دنیا کو امن کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں عالمی برادری نفرت پھیلانے والوں سے آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آزادی اظہار رائے ذمہ داریوں کے ساتھ آتی ہے، حکومت اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ واقعہ سے متعلق پاکستان کے تحفظات ڈنمارک کے حکام کو پہنچائے جارہے ہیں۔

پاکستان نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور اس طرح کے اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈنمارک میں بھی انتہائی دائیں بازو کے ڈینش سیاستدان راسموس پلودان نے قرآن پاک کے نسخے کو مسجد کے سامنے نذرآتش کردیا تھا۔

واقعے کے بعد ترکیہ حکام نے ڈنمارک کے سفیر کو طلب کر لیا تھا۔افسوس ناک واقعہ سے قبل 21 جنوری کو سویڈن میں ترکیہ سفارت خانے کے باہر ڈنمارک کے انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی تھی۔سویڈن، نیدرلینڈ اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پاکستان اور افغانستان سمیت ایران اور دیگر مسلم ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…