اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر بے قابو ، پاکستان کرکٹرز کی تجوریاں مزید بھر گئیں

datetime 28  جنوری‬‮  2023 |

کراچی(یواین پی) ڈالرریٹ بے قابو ہونے سے پاکستانی کرکٹرز کی تجوریاں مزید بھر گئیں جب کہ پی ایس ایل کے معاوضوں میں بیٹھے بٹھائے اضافہ ہو گیا۔پاکستان سپر لیگ کاآٹھواں ایڈیشن 13 فروری سے ملتان میں شروع ہو گا،گذشتہ کچھ عرصے سے ملک میں ڈالر کا ریٹ مسلسل بڑھتے چلے جا رہا ہے، اس کا اثر کرکٹ پر بھی پڑنے لگا۔

پی سی بی کو یقین ہے کہ اسے ایونٹ میں ڈالرز کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس حوالے سے حکومت سے یقین دہانی بھی لی جا چکی، البتہ فرنچائزز کو خسارے کا سامنا ہے۔پی ایس ایل میں پلاٹینیم کرکٹرز کی فیس ایک لاکھ 70 ہزار سے ایک لاکھ30 ہزار ڈالر تک ہے، ڈائمنڈ کو85 سے60 ہزار جبکہ گولڈ کو 50سے 40 ہزار ڈالرز دیے جاتے ہیں، سلور پلیئرز25 سے15 ہزار جبکہ ایمرجنگ ساڑھے 7 ہزار ڈالرز وصول کرتے ہیں۔2021 میں غیرملکی کرکٹرز اور پروڈکشن وغیرہ کے سوا دیگر ادائیگیاں روپے میں کی گئی تھیں مگر گذشتہ برس رمیز راجہ نے دوبارہ ڈالرز رائج کر دیے، پاکستانی روپیہ ان دنوں تاریخی بے قدری کا شکار ہے۔گزشتہ روز تک ریٹ 262 سے زائد ہو چکا، پی ایس ایل فرنچائزز کھلاڑیوں کو معاوضہ ڈالرز میں دینے کی پابند ہیں، اس سال ڈرافٹ کے دن 15 دسمبر والے ریٹ 225 کے حساب سے ادائیگی کرنا ہوگی۔اس حوالے سے ایک ٹیم آفیشل نے کہا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی بات تو سمجھ آتی ہے پاکستانی کرکٹرز کو ڈالرز میں ادائیگی کی تو کوئی منطق نہیں بنتی۔

گزشتہ برس ہم نے سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے بہت کہا لیکن وہ نہ مانے، ہم خود پاکستانی کرکٹرز کا معاوضہ روپے میں طے کریں تو وہ ناراض ہو جائیں گے، یہ پی سی بی کا کام ہے کہ اس مسئلے کو حل کرے، اس سال ڈالر کی وجہ سے ہماریاخراجات 30 فیصد تک بڑھ جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ فرنچائز اونرز نے مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی سے بات کی تھی مگر وقت کی کمی کے سبب کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

امید ہے کہ اگلے سال کوئی بہتر سسٹم بن جائے گا۔واضح رہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ادائیگی ڈالر کو روپے میں تبدیل کرکے ہوتی ہے،70 فیصد رقم پہلے جبکہ بقیہ30فیصد ایونٹ کے بعد ملتی ہے،البتہ ساتویں ایڈیشن کی پہلی ادائیگی ٹورنامنٹ شروع ہونے کے کئی روز بعد ہوئی تھی۔گزشتہ برس فروری میں ڈالر کا ریٹ 175سے زائد تھا، آٹھویں ایڈیشن میں ڈرافٹ والے دن15دسمبر کو 225 رہا، یعنی 50 روپے کا اضافہ ہو گیا۔

ساتویں ایڈیشن میں اگر کسی پلاٹینیم کرکٹر کو 3 کروڑ روپے معاوضہ ملا تھا تو اب اسے 82 لاکھ روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اس حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ایک آفیشل نے کہا کہ ہم بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستانی کرکٹرز کو ادائیگی روپے میں ہی ہونی چاہیے،البتہ چونکہ یہ سابقہ انتظامیہ کا فیصلہ تھا اس لیے فی الحال کچھ نہیں کر سکتے، بعد میں یقینا غور کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…