ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے کچی آبادی کے مکینوں کومالکانہ حقوق دینے کیلئے گرین سگنل دید یا

datetime 5  جون‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کچی آبادی کے مکینوں کومالکانہ حقوق دینے کیلئے پنجاب حکومت کو گرین سگنل دے دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے کچی آبادی کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لئے پنجاب حکومت کو گرین سگنل دے دیا۔ کچی آبادیوں کے مکینوں کو مرحلہ وار مالکانہ حقوق دئیے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لئے پیپر ورک مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ سینئر صوبائی وزیرعبدالعلیم خان کی بنائی گئی سفارشات بھی منگوا لی گئیں، وزیراعظم عمران خان نے کچی آبادیوں سے متعلق پنجاب حکومت سے تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت کیلئے ہرگز کوئی خطرہ نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کیلئے خطرہ بن چکی ہیں،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں شہباز شریف گروپ مستقبل کے ہدف کیلئے ایک پالیسی پر گامزن ہے ،جہانگیر ترین گروپ حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے نشان پر ہی ووٹ ملے گا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف یہ سمجھ رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد لینڈ سلائیڈ ہو گی اور ان کی جماعت اقتدار میں آ جائے گی لیکن شہباز شریف سمیت سنجیدہ لوگ حقیقت اور اپنی پوزیشن سے آگاہ ہیں۔ اس وقت اپوزیشن حکومت کیلئے ہرگز کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ آپس میں دست و گریبان ہیں، یہ پہلے تین سال عوام کی بھلائی کے لئے کوئی تجاویز دے سکے ہیں اور نہ ان سے آئندہ دو سالوں میں کوئی

امیدرکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں سنٹرل بینک کو وزارت خزانہ سے الگ رکھا جاتا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان میں بھی اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کی وجہ سے کورونا وباء کے دوران انڈسٹریز کو سہا را ملا، آسان شرائط پر قرض کی وجہ سے نوکریوں، ایس ایم ایز کو تحفظ

ملا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف جب بھی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ پروگرام کرتا ہے تو اس کیلئے ان کا ایک سٹینڈرڈ فارمولہ ہے جس پر پاکستان کوبھی عمل پیرا ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کی کامیابیوں کو تعصب اور بغض کی آنکھ سے دیکھے گی تو اسے حکومت کا سفید بھی سیاہ ہی نظر آئے گا اس لئے انہیں حکومت کی کامیایوں کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…